لاہور:لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا کیا گیا ہے کہ بسنت کے موقع پر مختلف حادثات میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
بسنت کے دوران ہونے والی اموات اور زخمیوں سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے موقعے پرمحکمہ داخلہ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق تین افراد کرنٹ لگنے سے، دو افراد درختوں سے گرنے کے باعث جبکہ 12 افراد چھتوں سے گر کر ہلاک ہوئے۔
عدالت نے بسنت کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں جبکہ بسنت کے اخراجات کے بارے میں متفرق درخواست پر ہوم سیکریٹری پنجاب سے جواب بھی طلب کیا گیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق درخواستوں میں بسنت فیسٹیول کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے اور اس حوالے سے تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں زخمیوں کا مکمل ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ بسنت کے دوران ڈور پھرنے سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے زخمیوں کی مکمل معلومات عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ بسنت سے متعلق درخواستیں شیخ امتیاز سمیت دیگر شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہیں جن میں بسنت کے انعقاد، اس سے ہونے والے جانی نقصانات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواستوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ بسنت کے انعقاد کے دوران حفاظتی انتظامات ناکافی رہے اور اس کے نتیجے میں متعدد افراد جان سے گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے، اس لیے حکومت کو جوابدہ بنایا جائے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
عدالت نے بسنت کے دوران زخمی ہونے والے افراد کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے پہلے ہی تفصیلی رپورٹ طلب کر رکھی ہے جبکہ وکلا کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے درخواستوں پر مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب کی اجازت کے بعد 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں 25 سالہ طویل انتظار اور سخت ترین حفاظتی ضابطوں کے سائے میں بسنت منائی گئی۔
بسنت پر مختلف حادثات میں 17 ہلاکتیں ہوئیں،پنجاب حکومت نے عدالت میں رپورٹ جمع کرادی

