اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو سخت وارننگ دے دی ہے۔ بدھ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار صرف خاندان کے پاس ہے، پارٹی کے پاس نہیں۔
قیادت پر خفیہ رابطوں اور غداری کے الزامات
علیمہ خان نے پارٹی رہنماؤں پر بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو اعتماد میں لیے بغیر حکومت کے ساتھ پسِ پردہ رابطوں کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
خفیہ ملاقاتیں: "پارٹی رہنما ہمیں بتائے بغیر محسن نقوی سے رابطے کر رہے ہیں اور ہمیں کسی قسم کی معلومات نہیں دی جا رہی تھیں۔ جو باتیں ہمیں پارٹی سے پتہ چلنی چاہیے تھیں، وہ ٹی وی پر محسن نقوی کے بیانات سے معلوم ہوئیں۔”
بیرسٹر گوہر پر تنقید: "بیرسٹر گوہر پہلے (حکام سے) ملاقاتیں کرتے تھے اور ہمیں بعد میں مطلع کیا جاتا تھا۔ وہ چیئرمین تو بن گئے لیکن سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں عمران خان کے کیسز تک نہیں لگوا سکے۔”
لاپتہ رہنما: علیمہ خان نے سوال اٹھایا کہ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد کہاں غائب ہیں؟ اسی طرح لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کیسز کی سماعت کیوں نہیں کروا پا رہے؟
صحت اور مشاورتی کمیٹی پر دو ٹوک موقف
عمران خان کی صحت کے حوالے سے بننے والی مشاورتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا:
"میری رائے اور مرضی کے بغیر کوئی مشاورتی کمیٹی نہ بن سکتی ہے اور نہ ہی منظور ہے۔ خان کی صحت سے متعلق کوئی بھی کارروائی میری مشاورت کے بغیر نہیں ہوگی۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے معائنے کے وقت ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی لازمی ہے، کیونکہ ان کے بقول سرکاری ڈاکٹروں پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
"پارٹی ایسے پرسکون ہے جیسے علاج مکمل ہو گیا ہو”
علیمہ خان نے پی ٹی آئی قیادت کے رویے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیادت اس طرح خاموش اور پرسکون بیٹھی ہے جیسے عمران خان کا علاج مکمل ہو چکا ہو، جبکہ حقیقت میں ان کی صحت کے حوالے سے کچھ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ پارٹی کے اندر کون ‘غدار’ ہے اور ان کے بارے میں تمام معلومات موجود ہیں۔
خاندانی مینڈیٹ کی یاددہانی
بات چیت کے اختتام پر انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ پارٹی کا نہیں بلکہ خاندان کا مینڈیٹ ہے۔ آئندہ ہماری اجازت کے بغیر ان کی صحت یا علاج سے متعلق کوئی بھی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

