اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور ہسپتال منتقلی کے معاملے پر قانونی اور سیاسی محاذوں پر تیزی آگئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء لطیف کھوسہ، شہباز کھوسہ اور حمزہ ستار نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں انہیں فوری طور پر نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ
عمران خان کو فوری طور پر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا تفصیلی معائنہ کروایا جائے کیونکہ ان کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے اور ان کی تمام طبی تشخیص ان کے ذاتی معالجین کی زیرِ نگرانی مکمل کی جائے۔
ایک طرف عدالت میں درخواست دائر کی گئی تو دوسری طرف وفاقی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سلمان اکرم راجہ، علامہ ناصر عباس، عامر ڈوگر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم کے زیرِ التوا مقدمات کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ جبکہ عمران خان کے اہلِ خانہ اور وکلاء کو ان سے ملاقات کی باقاعدہ اجازت دی جائے اورجیل مینوئل کے مطابق قیدی کو ملنے والی تمام طبی سہولیات بشمول ذاتی معالج سے معائنے کا حق دیا جائے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کو انسانی حقوق کے تناظر میں اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس درخواست کو سماعت کے لیے کب مقرر کرتی ہے اور انتظامیہ کا اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی شفا ہسپتال منتقلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر، اسلام آباد میں اپوزیشن کا بھرپور احتجاج

