واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی وہ "بہترین چیز ہوگی جو رونما ہو سکتی ہے۔” انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا۔
ٹرمپ کے یہ تبصرے ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو گرانے کے لئے ابھی تک ان کی سب سے واضح کال ہے، اور یہ اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا معاہدہ کرے۔ دریں اثنا، 1979 کے اسلامی انقلاب میں ایرانی شاہ کے جلاوطن بیٹے نے تہران کے خلاف بین الاقوامی مداخلت کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کی۔
ٹرمپ نے شمالی کیرولائنا میں فورٹ بریگ فوجی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے وقت جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا وہ ایران میں "حکومت کی تبدیلی” چاہتے ہیں؟ تو امریکی صدر نے جواب میں کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سے بہترین چیز ہو گی۔”
JUST IN: Trump says second U.S. aircraft carrier was sent to the Middle East “in case we don’t make a deal.”
“We’ll need it… If we have a deal (Iran), we could cut it short — it will be leaving very soon.” pic.twitter.com/lMTp69YJWs
— Conflict Alarm (@ConflictAlarm) February 13, 2026
حالانکہ ٹرمپ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ پر کسے اقتدار سنبھالتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے "وہاں لوگ موجود ہیں۔”
اس سے قبل انہوں نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس سے افراتفری پھیل سکتی ہے، حالانکہ وہ ماضی میں خامنہ ای کو دھمکیاں دے چکے ہیں۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ – دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز – ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے لیے "بہت جلد” روانہ ہو گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ "اگر ہم کوئی معاہدہ نہیں کر پاتے ہیں تو ہمیں اس کی ضرورت ہوگی۔”
وینزویلا میں نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد امریکی دیوہیکل جہاز اس وقت کیریبین سمندر سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن کے بعد یہ دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز ہے، لنکن مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود 12 امریکی بحری جہازوں میں سے ایک ہے۔

