ڈھاکا: بی این پی نے 300 میں سے 208 نشستیں حاصل کر لی ہیں جو اگلی حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت ہے۔
بنگلہ دیش میں 212 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے زیر قیادت اتحاد نے مضبوط برتری حاصل کر لی ہے۔ طارق رحمان اگلے بنگلہ دیشی وزیراعظم ہوں گے، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد،
غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے اتحاد نے 70 نشستیں حاصل کیں۔ دریں اثنا، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں نے مل کر تقریباً چھ نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان ابتدائی نتائج کے باوجود، ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے، اور سرکاری نتائج کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ابتدائی اعداد و شمار بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ بی این پی نے مخلوط حکومت بنانے کے لیے درکار آدھے سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمٰن نے سب سے کہا ہے کہ وہ اپنی والدہ خالدہ ضیا کے احترام میں جیت کی تقریبات ملتوی کر دیں، جن کا الیکشن سے قبل انتقال ہو گیا تھا۔ اس لیے انہوں نے نماز جمعہ کے بعد خالدہ ضیاء کے لیے دعا کی درخواست کی ہے۔
جنریشن زی کے نمائندے ناہیداسلام کا جیت کر جماعت اسلامی سے اتحاد
جماعتِ اسلامی دوسرے نمبر پر ہے، جس کے پاس 46 نشستیں ہیں۔
نیشنل سیٹیزنز پارٹی (این سی پی) کے امیدوار ناہید اسلام نے ڈھاکہ 11 حلقے سے جیت حاصل کی اور جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔بی بی سی بنگلہ کے مطابق وہ غیر سرکاری طور پر جیت گئے ہیں اور انھوں نے کل 93,872 ووٹ حاصل کیے۔
صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے رہنما طارق رحمان کو ’بھاری اکثریت‘ حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے۔
طارق رحمان کو امریکا کی مبارکباد
بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر نے بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو کامیاب انتخابات اور تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
ی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کے لیے ایک ڈرامائی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جو اب بنگلہ دیش کے اگلے وزیرِاعظم بننے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔
جماعت اسلامی کا بنگلہ دیشی انتخابات میں بے ضابطگیوں کا الزام
دریں اثنا، بنگلہ دیش خلافت مجلس کے امیر مولانا مامون الحق، جماعت اسلامی کے 11 جماعتی اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار، نے ڈھاکہ-13 میں بیلٹ گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیلٹ کے ڈیزائن میں خامی کی وجہ سے ان کے حق میں ڈالے گئے ہزاروں ووٹوں کو باطل کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں جمعرات کو اپنے انتہائی اہم انتخابات کا آغاز ہوا کیونکہ وہ کلاسک ‘بیٹل آف دی بیگم’ کے دور سے ایک نئے باب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی موت اور ان کی حریف شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کے بعد یہ الیکشن ایک ہائی پروفائل دکھائی دے رہا ہے۔
ممکنہ وزریراعظم رحمان ضیا ، ایک تعارف
صرف دو سال قبل ہونے والے انتخابات میں رحمان لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے تھے، جبکہ بی این پی کے کئی رہنما اور کارکنان شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران جیلوں میں قید تھے۔
رحمان کا سیاسی کیریئر تنازعات سے گھرا رہا ہے۔ 2007 میں انھیں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اگلے سال وہ لندن چلے گئے۔ انھیں شیخ حسینہ کے ایک جلسے پر حملے کے مقدمے میں عدم موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جسے وہ سیاسی انتقام قرار دیتے رہے۔ تاہم 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے خلاف کئی سزائیں اور مقدمات ختم کر دیے گئے، جس کے بعد ان کی وطن واپسی ممکن ہوئی۔
ان کے والد ضیاالرحمان بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے اور 1981 میں اپنے قتل تک ملک کے صدر رہے۔
رحمان کی والدہ خالدہ ضیا تین بار وزیرِاعظم رہیں، تاہم انھیں بھی شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے دوران کئی مرتبہ گرفتار اور قید کیا گیا۔
خالدہ ضیا اس انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی تھیں، مگر دسمبر میں رحمان کی لندن سے وطن واپسی کے چند روز بعد ان کی وفات ہو گئی۔سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکہ دونوں ممالک کی خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔

