نئی دہلی : بھارتی پولیس نے تعلیمی تاریخ کے ایک بڑے اور خطرناک ترین نیٹ ورک کا پردہ چاک کرتے ہوئے 11 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جنہوں نے میڈیکل، نرسنگ اور انجینئرنگ جیسے حساس شعبوں کی ایک لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں جاری کر کے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
ایک لاکھ سے زائد جعلی اسناد کی فروخت:
پولیس حکام کے مطابق یہ بین ریاستی گروہ بھارت بھر میں پھیلا ہوا تھا اور مختلف "تعلیمی کنسلٹنٹس” کے روپ میں کام کر رہا تھا۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق، اس گروہ نے نرسنگ، طب (میڈیسن)، اور انجینئرنگ سمیت مختلف تکنیکی شعبوں کی 100,000 سے زائد ایسی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس فروخت کیے جو بظاہر اصل لگتے تھے لیکن ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں سے ہزاروں ڈگریاں میڈیکل اور نرسنگ کے شعبوں سے متعلق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان جعلی اسناد کی بنیاد پر ہزاروں لوگ ہسپتالوں میں انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہوں گے۔ حکام کا خدشہ ہے کہ یہ "جعلی ڈاکٹر” اور "نرسیں” کئی سالوں سے پرائیویٹ کلینک اور ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
گرفتار کیے گئے 11 افراد میں جعلی تعلیمی اداروں کے مالکان اور ایجنٹس شامل ہیں۔ یہ گروہ بھاری رقم کے عوض ایسی ڈگریاں فراہم کرتا تھا جو نامور یونیورسٹیوں سے ملتی جلتی تھیں، اور بعض صورتوں میں ان کی ویب سائٹس بھی جعلی بنائی گئی تھیں تاکہ تصدیق (Verification) کے عمل کے دوران کسی کو شک نہ ہو۔
بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک گروہ کی گرفتاری ہے، جبکہ اس نیٹ ورک کے تانے بانے کئی ریاستوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پولیس اب ان تمام افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے جنہوں نے یہ جعلی ڈگریاں خریدیں، تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔
اس انکشاف کے بعد عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور تعلیمی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ محض معاشی فراڈ نہیں بلکہ "منظم قتل” کے مترادف ہے کیونکہ ایک غیر مستند ڈاکٹر یا انجینئر کی غلطی سیکڑوں جانیں لے سکتی ہے۔

