میامی : امریکی ریاست فلوریڈا میں 64 سالہ رونالڈ ہیتھ کو سیلز مین کے قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رونالڈ ہیتھ، جو اس سے قبل 16 سال کی عمر میں کیے گئے ایک اور قتل کے جرم میں 10 سال قید کاٹ چکا تھا، کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 12 منٹ پر رائیفورڈ کی ریاستی جیل میں سزائے موت دی گئی۔فلوریڈا کے محکمہ اصلاحات نے ایک بیان میں کہاکہ رونالڈ پی ہیتھ کی سزا پر شام 6 بج کر 12 منٹ ایسٹرن اسٹینڈرڈ ٹائم پر عمل درآمد کیا گیا تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رونالڈ ہیتھ کو 1989 میں اپنے کم عمر بھائی کینتھ ہیتھ کے ساتھ ڈکیتی کے دوران مائیکل شیریڈن کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔کینتھ ہیتھ نے قتل کا اعتراف کیا اور اپنے بھائی کے خلاف گواہی دی جس کے بعد اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق جیوری نے قرار دیا کہ رونالڈ ہیتھ قتل اور ڈکیتی میں مرکزی کردار تھا اور اس نے اپنے کمزور اور کم عمر بھائی کینتھ پر نمایاں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ رونالڈ ہیتھ نوعمری میں کیے گئے ایک قتل کے جرم میں 30 سالہ سزا میں سے 10 سال قید کاٹنے کے بعد رہا ہوا اور رہائی کے چند ماہ بعد ہی اس نے سیلزمین مائیکل شیریڈن کو قتل کیا۔یہ رواں سال امریکا میں سزائے موت پر عمل درآمد کا دوسرا واقعہ ہے۔
امریکا میں گزشتہ سال مجموعی طور پر 47 سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے جب 52 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔گزشتہ سال دی جانے والی 39 سزائیں مہلک انجکشن کے ذریعے دی گئیں۔تین سزائیں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے جبکہ پانچ نائٹروجن ہائپوکسیا کے ذریعے دی گئیں جس میں قیدی کے چہرے پر ماسک کے ذریعے نائٹروجن گیس داخل کی جاتی ہے جس سے وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت کے طریقہ کار کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔امریکا کی 50 میں سے 23 ریاستوں میں سزائے موت کو ختم کیا جا چکا ہے جبکہ کیلیفورنیا، اوریگون اور پنسلوانیا سمیت تین دیگر ریاستوں میں اس پر عمل درآمد معطل ہے۔

