لاہور ( رپورٹ اسد مرزا)جو افراد برسوں سے کچے کے ڈاکوؤں کے ظلم، اغوا اور خوف کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لیے یہ مسکراہٹ محض ایک تصویر نہیں بلکہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ منظر ان کے سینے میں پیوست دکھ، محرومی اور بے بسی کو ایک بار پھر تازہ کر دیتا ہے۔ جن گھروں سے لاشیں اٹھیں، جن ماؤں نے بیٹے کھوئے، جن بچوں نے باپ تاوان کے بدلے واپس نہ دیکھے — ان سب کے لیے یہ مسکراتا ہوا چہرہ انصاف نہیں بلکہ ریاستی کمزوری کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچے سے متاثرہ عوام اس سرنڈر کو سکون نہیں بلکہ ایک اور دھوکہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ وہی چہرے ہیں جو کل تک بندوق کے زور پر زندگیاں اجاڑ رہے تھے اور آج تحفظ اور سہولت کے سائے میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ یہ تصویر ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا کر دیتی ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے بے رحم ہے۔ یہ مسکراہٹ صرف ایک فرد کے ہونٹوں پر نہیں، بلکہ پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ ایسا سوال جو ہر اس شخص کے دل میں چبھتا ہے جو برسوں سے انصاف کا منتظر ہے۔

