Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

      ہائیبرڈ گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بڑی خوشخبری، لمبے انتظار کے بعد سیلز ٹیکس میں کمی!

      چینی قونصل جنرل اور علی ڈار کی ملاقات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

       خام تیل کو صاف کرنے کے لیے چینی نئی ٹیکنالوجی تیار

      مصنوعی ذہانت بڑا خطرہ،عالمی ٹیک باباؤں نے گھنٹی بجا دی: ا اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:راجہ محمد عارف
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان اس وقت ایک ایسے غیر مرئی محاذ پر کھڑا ہے جہاں خطرات الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے میں پیوست ہو کر ایک پیچیدہ جال بن چکے ہیں۔ بظاہر دہشت گردی، معاشی بدحالی اور غذائی بحران مختلف النوع مسائل دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب ایک ہی نظام کا حصہ ہیں جو ریاستی کمزوری کو بڑھاتا اور بحران کو گہرا کرتا ہے۔ یہی باہمی وابستگی حالات کو وقتی مشکلات سے نکال کر ایک ہمہ گیر چیلنج میں تبدیل کر دیتی ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان کی پالیسی سازی اب تک اس حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کر سکی۔
    پاکستان میں سب سے بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ شدت پسندی کو محض سیکیورٹی مسئلہ سمجھا گیا، حالانکہ اس کی جڑیں غربت، ناانصافی، اور کمزور حکمرانی میں پیوست ہیں۔ اسی طرح معاشی بحران کو مالیاتی پالیسیوں تک محدود رکھا گیا، جبکہ اس کے اثرات ریاستی رٹ، سماجی استحکام اور قومی سلامتی تک پھیلتے ہیں۔ نتیجتاً ایک مسئلہ وقتی طور پر دبایا جاتا ہے تو دوسرا سر اٹھا لیتا ہے، اور یوں ریاست ایک مسلسل دائرے میں گھومتی رہتی ہے جہاں کوئی بھی کامیابی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔
    خطے کی صورتحال اس پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، سرحدی کمزوریاں اور شدت پسند گروہوں کے باہمی روابط اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطرات اب مقامی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں روایتی سیکیورٹی حکمت عملیاں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ وہ اس نئے طرز کے خطرے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جب تک علاقائی سطح پر ہم آہنگی اور داخلی استحکام کو یکجا نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خطرات مسلسل بڑھتے رہیں گے۔
    دوسری جانب معیشت کی کمزوری اس پورے نظام کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہے۔ جب ریاست مالی بحران کا شکار ہوتی ہے تو اس کی عملداری متاثر ہوتی ہے، ادارے دباؤ میں آ جاتے ہیں اور عوامی اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی خلا بدامنی، جرائم اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور معیشت مزید زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کا بوجھ اسی گہرے مسئلے کی علامات ہیں، نہ کہ اس کی اصل وجوہات۔
    خوراک کی قلت اور انسانی ترقی کے مسائل بھی اسی زنجیر کا حصہ ہیں۔ یہ صرف زرعی پیداوار کی کمی کا معاملہ نہیں بلکہ ناقص گورننس، موسمیاتی تبدیلی اور پالیسی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ جب ریاست بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو سماجی بے چینی بڑھتی ہے، اور یہی بے چینی بالآخر سیکیورٹی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا شیطانی چکر وجود میں آتا ہے جس میں ہر مسئلہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے اور ریاستی ڈھانچہ بتدریج کمزور ہوتا جاتا ہے:
    تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی حکمت عملی ہمیشہ ردعمل پر مبنی رہی ہے، پیش بندی پر نہیں۔ ہم بحران کے بعد حرکت میں آتے ہیں، جبکہ جدید ریاستیں خطرات کے باہمی تعلق کو پہلے سے سمجھ کر مربوط پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں۔ یہی فرق ہمیں بار بار ایک ہی دائرے میں واپس لے آتا ہے جہاں وقتی اقدامات تو کیے جاتے ہیں مگر بنیادی اصلاحات نظرانداز ہو جاتی ہیں۔
    میری رائے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ وہ اس “خطرات کے گٹھ جوڑ” کو تسلیم کرے اور پالیسی سازی کو اسی بنیاد پر ازسرنو ترتیب دے۔ سیکیورٹی، معیشت اور سماجی ترقی کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت چلانا ہوگا۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، ہر کامیابی عارضی اور ہر ناکامی مستقل محسوس ہوتی رہے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا اصل بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ سوچ کی محدودیت ہے، اور جب تک ہم مسائل کو ایک مربوط نظام کے طور پر نہیں سمجھتے، یہ پوشیدہ جنگ جاری رہے گی—اور شاید مزید شدت اختیار کرتی جائے گی۔

    Related Posts

    عمرکوٹ: مفرور اور سنگین مقدمات میں مطلوب 5 ملزمان گرفتار

    جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کی صوبائی تنظیم سازی مکمل

    مری امپرومنٹ ٹرسٹ کے علاقے میں آوارہ کتوں کی بہتات

    مقبول خبریں

    سعودی کے پاس بچا صرف 5 سے 7 دنوں کا تیل، دنیامیں شدید بحران کا اندیشہ

    ہمالیہ، نیپال میں تباہی کے بعد ہندوستان کو بھی خطرہ!

    جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کی صوبائی تنظیم سازی مکمل

    لکڑی کا کام کرتے ترکھان   تیز دہار آرے کی زد میں آگیا

    سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

    بلاگ

    کارو درہ: لاشوں کی بے حرمتی

    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی خاموشی نہیں، تحفظ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے

    ”کیا پنجاب کو پہلی بار خاتون چیف سیکرٹری ملنے جا رہی ہے،آئی جی کون؟“

    سی سی پی او پشاور میاں سعید اور جنسی تشدد میں ملوث ملزمان کی ہلاکت

     عجیب و غریب ڈیمانڈیں  بروقت نکاح میں رکاوٹ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.