بھارتی پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں زبردست ہنگامہ آرائی میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہی۔ اپوزیشن کے 8 ارکان اسمبلی معطل، ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر بھارت چین سرحدی تنازع پر سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب کا مسئلہ اٹھایا ۔
جنرل نروانے کی غیر مطبوعہ کتاب پر ہنگامہ
اس سے قبل پیر اور منگل بھی لوک سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا۔ در اصل راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کاروان میگزین میں جنرل نروانے کی غیر مطبوعہ کتاب (فار اسٹارز آف ڈسٹنی) سے متعلق شائع ایک مضمون کے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی۔
راہل گاندھی نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ "اس میگزین میں نروانے نے کہا کہ یہ ان کی خود نوشت ہے جسے حکومت شائع نہیں ہونے دے رہی ہے۔ میں اس میں سے صرف پانچ لائنیں پڑھنا چاہتا ہوں”۔ بی جے پی لیڈروں نے اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ غیر مطبوعہ کتاب کے اقتباسات کیسے پڑھے جا سکتے ہیں۔
راہل گاندھی نے حکمراں جماعت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "وہ ایک اقتباس سے ڈر رہے ہیں۔ اس میں ایسا کیا لکھا ہے جو انہیں خوفزدہ کر رہا ہے، اور مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اگر وہ خوفزدہ نہیں ہیں تو مجھے پڑھنے کی اجازت دیں۔”
سرکار پر نروانے کی کتاب کی اشاعت روکنے کا الزام
میڈیا رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی جس غیر مطبوعہ کتاب کے اقتباسات پڑھ رہے تھے، اس کی ریلیز جنوری 2024 میں ہونی تھی تاہم بھارتی فوج اس کتاب کی جانچ کر رہی ہے۔ ‘دی انڈین ایکسپریس’ نے جنوری 2024 میں رپورٹ کیا کہ پبلشر، پینگوئن رینڈم ہاؤس سے کہا گیا تھا کہ وہ جانچ مکمل ہونے تک کتاب کے اقتباسات یا سافٹ کاپیاں شیئر نہ کریں۔ اطلاعات کے مطابق وزارت دفاع بھی کسی نہ کسی سطح پر اس جانچ میں شامل تھی۔ تب سے اب تک کتاب کی اشاعت کی اجازت نہیں ملی ہے۔
گاندھی نے مزید کہا کہ اس اقتباس کا تعلق ڈوکلام کے واقعے سے ہے، جب "چار چینی ٹینک بھارتی حدود میں داخل ہو رہے تھے” اور ایک ریز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سابق "آرمی چیف لکھتے ہیں، اور میں ایک مضمون کا حوالہ دیتا ہوں جو ان کی کتاب کے اقتباس پر مبنی ہے”۔
راہل گاندھی نے مزید کہ "یہ (سابق) آرمی چیف نروانے کی خود نوشت ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اچھی طرح سے سنیں۔ آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ محب وطن کون ہے اور کون نہیں۔ ”
بی جے پی ممبران پارلیمنٹ نے مسلسل اعتراض کرتے رہے کہ یہ خود نوشت شائع نہیں ہوئی ہے اور ایوان میں اس کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔
وزیر دفاع سنگھ نے بھی راہل گاندھی سے وضاحت طلب کی کہ آیا وہ جس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں وہ باضابطہ طور پر شائع ہوئی ہے۔ "میں چاہتا ہوں کہ وہ ایوان کے سامنے وہ کتاب پیش کریں جس کا وہ حوالہ دے رہے ہیں، کیونکہ جس کتاب کا وہ حوالہ دے رہے ہیں وہ شائع نہیں ہوئی ہے۔”
اپوزیشن کے آٹھ ارکان پارلیمنٹ سے معطل
وہیں اپوزیشن کے آٹھ ممبران پارلیمنٹ کو قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور "سپیکر پر کاغذات پھینکنے” پر بجٹ سیشن کے بقیہ مدت کے لیے لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا۔ اپوزیشن کے ارکان کی معطلی پر ایوان میں خوب ہنگامہ آرائی ہوئی جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کو معطل کرنا پڑا۔
یادرہے آپ بیتی کے کچھ حصے انڈیا کے جریدے کاروان میں شائع ہوئے جن میں سنہ 2020 کی چین انڈیا جھڑپوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لداخ کی وادی گلوان کے سبب ہونے والی ان جھڑپوں میں ایک کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
جنرل نروانے نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ چینی ٹینکوں کو انڈین فوج نے خبردار کیا، اس کے باوجود وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔پروٹوکول کے مطابق جنرل نروانے کے لیے واضح احکامات یہ تھے کہ جب تک اعلیٰ سطح سے اجازت نہ ملے، فائر نہ کھولا جائے۔انڈین آرمی چیف نے اپنے ملک کی قیادت سے رابطوں کی کوشش کی اور پوچھا کہ ’اُن کے لیے کیا حکم ہے؟‘رات سوا آٹھ بجے شروع ہونے والی چینی ٹینکوں کی پیش قدمی کے بعد اعلیٰ سطح قیادت سے رابطوں کی بار بار کوشش کی گئی، لیکن ’جواب تقریباً سوا دو گھنٹے بعد رات 10 بج کر 30 منٹ پر آیا۔‘جنرل نروانے کے مطابق انھیں کہا گیا کہ ’جو مناسب سمجھیں، وہ کریں۔جنرل نروانے نے اپنے بقول یہ فیصلہ کیا تھا کہ ’ہم پہلے گولی نہیں چلائیں گے۔یہ چال بازی کی جنگ تھی اور چینی فوج داؤ میں آ گئی۔مزید لکھا ہے کہ اس سے بحران تو ختم نہ ہوا لیکن سب سے خطرناک مرحلہ گزر چکا تھا اور صورت حال ’سنبھال لی گئی تھی۔

