سلیکون ویلی : ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آگئی ہے۔ گوگل کے ایک سابق ملازم نے باقاعدہ طور پر "وِسل بلوئر” (Whistleblower) بن کر امریکی ریگولیٹرز کو شکایت کی ہے کہ کمپنی نے اسرائیلی فوجی ٹھیکیداروں کو ڈرون فوٹیج کے تجزیے کے لیے اپنی جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹیکنالوجی فراہم کر کے اپنے ہی طے شدہ اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ 2024 کے دوران گوگل کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈویژن کو ایک کسٹمر سپورٹ کی درخواست موصول ہوئی، جو مبینہ طور پر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کے آفیشل ای میل ایڈریس سے بھیجی گئی تھی۔
یہ درخواست ایک اسرائیلی ٹیک کمپنی "کلاؤڈ ایکس” (CloudEx) کے ملازم کی جانب سے تھی، جو اسرائیلی فوج کا ٹھیکیدار ہے۔
درخواست میں گوگل کی جدید ترین ‘جیمنی’ (Gemini) کے ذریعے فضائی تصاویر اور ڈرون فوٹیج میں سپاہیوں، ڈرونز اور دیگر فوجی اشیاء کی شناخت کرنے میں مدد مانگی گئی تھی۔
گوگل کے اپنے اصولوں کی خلاف ورزی
گوگل کے عوامی طور پر بیان کردہ "AI اصول” واضح کرتے ہیں کہ کمپنی اپنی ٹیکنالوجی کو ایسی نگرانی (Surveillance) کے لیے استعمال نہیں کرے گی جو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہو یا براہ راست ہتھیاروں اور جنگی کارروائیوں سے وابستہ ہو۔ سابق ملازم کا دعویٰ ہے کہ گوگل نے اس کیس میں "دہرا معیار” اپنایا اور غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کے حوالے سے ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔
”گوگل کا موقف "
دوسری جانب گوگل کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ جس اکاؤنٹ سے مدد مانگی گئی تھی اس کا ماہانہ خرچہ 200 ڈالر سے بھی کم تھا، جس میں کسی بڑے یا معنی خیز AI پروجیکٹ کا چلنا ناممکن ہے۔
گوگل کسٹمر سپورٹ نے صرف وہی عمومی تکنیکی معلومات فراہم کیں جو وہ کسی بھی عام صارف کو فراہم کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فروری 2025 میں گوگل نے اپنی AI پالیسی میں خاموشی سے ترمیم کی تھی، جس میں جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کی مدد کے لیے اصولوں میں لچک پیدا کی گئی تھی۔
سرمایہ کاروں اور ریگولیٹرز کے لیے تشویش
شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ گوگل نے ریگولیٹرز اور سرمایہ کاروں کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کیا ہے، جو کہ سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ایس ای سی (SEC) کی شکایات پر خود بخود تحقیقات شروع نہیں ہوتیں، لیکن اس معاملے نے گوگل کے اندرونی کام کرنے کے طریقے اور اس کے عالمی فوجی اثر و رسوخ پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے قوانین ہوا میں اڑا دیے؟ اسرائیلی فوج کی مدد پر گوگل کے خلاف سنگین انکشافات

