اسلام آباد :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کمرشل بینکوں کو صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پر سروس چارجز وصول کرنے سے روک دیا ہے۔
بدھ کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین کمیٹی نے ایس ایم ایس سروس چارجز سے متعلق شکایات کا معاملہ اٹھایا۔
انہوں نے گورنر سٹیٹ بینک سے استفسار کیا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ صارفین سے ایس ایم ایس سروس کے چارجز وصول کیے جا رہے ہیں؟
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بینکوں نے ایس ایم ایس سروس چارجز کے ذریعے اربوں روپے کما لیے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ سہولت فراہم کر رہا ہے تو وہ سہولت اپنی ہی صارفین کو دیتا ہے۔
اس موقع پر گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بینک ایس ایم ایس سروس صارفین کی رضامندی سے فراہم کرتے ہیں، اور جو صارف یہ سہولت لیتا ہے اس سے چارج وصول کیا جاتا ہے۔
جس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ گورنر سٹیٹ بینک ہمیشہ کی طرح نجی بینکوں کی وکالت کر رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر بھی صارفین کو پیغامات بھیجتا ہے، کیا وہ اس کے چارجز وصول کرتا ہے؟ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ بینک صارفین سے ایس ایم ایس چارجز وصول کرتے ہیں، جو صارفین کے ساتھ زیادتی ہے۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گورنر سٹیٹ بینک نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ بینک صارفین سے فی ایس ایم ایس 0.54 سے 0.89 پیسے تک چارج کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بینک صارفین سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کر رہے۔اس پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کو اصولی طور پر ایس ایم ایس چارجز وصول کرنے سے روکنے کی سفارش کر دی۔
بینک اب صارفین کو بھیجے جانیوالے ایس ایم ایس سروس چارجز وصول نہیں کرسکیں گے

