تحریر:ملک سمیع اللہ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
بھکر سٹی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے شہریوں کو حیرت، غصے اور سوالات میں مبتلا کر دیا۔
مسلم بازار بالمقابل کنگ گیٹ دکان کے سامنے اونٹ باندھنے پر قصاب کو ہتھکڑی لگا کر گرفتار کر لیا گیا، جبکہ شہر بھر میں پھیلی درجنوں مستقل تجاوزات بدستور قائم رہیں۔ ڈپٹی کمشنر بھکر احسان علی جمالی کی ہدایت پر انچارج پیرا فورس محمد سجاد کی قیادت میں کارروائی کی گئی۔ دورانِ آپریشن قصاب محمد ریحان ولد محمد شفیق کو اس جرم میں دھر لیا گیا کہ اس نے اپنی دکان کے سامنے اونٹ باندھ رکھا تھا۔ ایف آئی آر درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جیسے کوئی سنگین جرم سرزد ہو گیا ہو۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ قصاب کو پہلے بھی متعدد بار وارننگز اور ریموول آرڈرز جاری کیے جا چکے تھے، مگر اس نے سرکاری احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھا اور دوبارہ جانور باندھ دیا۔ اسی “جرم” پر قانون پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آیا اور زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ تاہم شہر کے باشعور شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بھکر میں قانون کی تلوار صرف کمزور طبقے کے لیے ہی تیز ہے؟ کیا پختہ تجاوزات، فٹ پاتھوں پر قابض بااثر دکاندار، سڑکوں پر پھیلے غیر قانونی اسٹال اور سرکاری زمین پر بنے پکے ڈھانچے انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہیں؟
لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی انصاف سب کے لیے ہے تو پھر کارروائی بھی سب کے خلاف یکساں ہونی چاہیے،


