سیالکوٹ:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’بلوچستان میں دہشتگردوں کا منظم حملہ مکمل طور پر ناکام بنایا گیا، یہ لوگ بےشمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے، حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا۔‘دہشت گردوں کے سرغنہ کو ٹارگٹ کرنا پڑے گا، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا ملک سے باہر۔ اگر وہ افغانستان میں بھی ہوں تو یہ ہمارا فرض اور حلف ہے کہ ہم اپنے وطن کی حفاظت کیلئے کوئی بھی قدم اُٹھانے کو تیار ہیں۔
اتوار کو سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’بلوچستان میں مختلف مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا، یہ سلسلہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں: بی ایل اے اور انڈیا۔‘انہوں نے کہا کہ ’شہری آبادی کو نشانہ بنا کر ملک کو ڈی مورلائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بی ایل اے انڈیا کی پراکسی ہے۔ یہ لوگ چھوٹے بچے اور خواتین کو استعمال کرتے ہیں۔‘
وزیر دفاع کے مطابق زیادہ تر لاپتہ افراد بی ایل اے کے ممبران ہیں۔ جب دہشت گرد مارے جاتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ ان کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں تھا۔ ان کے لواحقین لاپتہ افراد کا الاؤنس بھی لیتے ہیں۔
’یہ لوگ مزدوروں کو ٹارگٹ کرتے ہیں، ہمارے دفاتر پر حملہ کرتے ہیں۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ بی ایل اے ایک فارن دہشتگرد تنظیم ہے اور یہ دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔ ’جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے واضح ہو جاتا ہے کہ انڈیا ملوث ہے۔ انڈیا اور افغانستان بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسی فرنچائز استعمال نہ کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کا رقبہ بڑا ہے اور آبادی کم ہے اس لیے انہیں سہولت ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ ہمیں پھر سے معاشی اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔‘
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا قومی ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں امن قائم ہو۔ ہماری افواج اس وقت بھی آپریشن میں مصروف ہے۔ دہشت گردوں کا مکمل طور پر خاتمہ کریں گے۔‘

