تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پشاور میں جرائم کے خلاف جاری مہم کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرتے ہوئے کیپٹل سٹی پولیس نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب لاپروائی، کرپشن اور ناقص کارکردگی کی کوئی گنجائش نہیں۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیر صدارت ملک سعد شہید پولیس لائن میں گزشتہ چار ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے پرفارمنس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں جرائم کے انسداد اور امن و امان کی صورتحال کا تقابلی تجزیہ کیا گیا۔
میٹنگ میں قبضہ مافیا، بھتہ خوری، سود خوری، سنیچنگ، منشیات فروشی، قمار بازی، اشتہاری و عادی مجرموں کے خلاف کارروائیوں، سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز اور پولیس ٹاسکنگ پر پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تھانوں کی انفرادی کارکردگی بھی کڑی جانچ سے گزری، جس کے نتیجے میں تھانہ پھندو کے ایس ایچ او کو کرپشن اور عوامی شکایات پر معطل کردیا گیا۔ اسی طرح تھانہ شرقی اور پشتخرہ کے ایس ایچ اوز کو ناقص کارکردگی پر کلوز ٹو پولیس لائن کرکے انکوائری کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
احتساب کا دائرہ یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ متعدد تھانوں کے ایس ایچ اوز کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کر لی گئی، جن میں خان رازق شہید، شہید گلفت حسین، آغا میر جانی شاہ، فقیر آباد، تہکال، ناصر باغ اور ارمڑ شامل ہیں۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کیپٹل سٹی پولیس میں سزا و جزا کے اصول پر بلا امتیاز عمل ہوگا۔ ایمانداری، فرض شناسی اور عوامی خدمت پولیس کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی اور انعامات بھی دیے جائیں گے، جبکہ غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔
سی سی پی او نے اعلان کیا کہ سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرموں کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران ضلع بھر میں ان کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔ انہوں نے قبضہ مافیا، قحبہ خانوں، منشیات فروشوں، قمار بازوں، اسلحہ نمائش کرنے والوں اور سوشل میڈیا پر فحاشی و غیر اخلاقی مواد پھیلانے والوں کے خلاف بلا تعطل کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، ایس ایس پی انوسٹی گیشن عائشہ گل، کمانڈنٹ کیمپس مجیب الرحمن، ڈویژنل ایس پیز، تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ سی سی پی او نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اہم و حساس مقامات کی سکیورٹی مؤثر بنائی جائے، ہر جرم پر بروقت ایف آئی آر درج ہو، ہاٹ اسپاٹس پر سنیپ چیکنگ اور گشت میں اضافہ کیا جائے، جبکہ تھانوں میں صفائی، ریکارڈ کی بروقت تکمیل، پی ایل سی و ڈی آر سی کے ساتھ فعال رابطہ، کھلی کچہریوں کا انعقاد اور غیر قانونی جرگہ سسٹم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
یہ میٹنگ اس امر کا واضح عندیہ ہے کہ پشاور میں پولیس اصلاحات محض دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر سخت فیصلوں کے ذریعے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا جا رہا ہے۔


