راولپنڈی: پاک فوج کے عظیم ہیرو لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ لانس نائیک محمد محفوظ 25 اکتوبر 1944 کو ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈ ملکاں میں پیدا ہوئے۔
لانس نائیک محمد محفوظ کا دیرینہ خواب اور زندگی کا مقصد پاک فوج میں شمولیت تھا، اسی جذبے کے تحت 8 مئی 1963 کو انہوں نے پاک فوج کی پنجاب رجمنٹ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ 1971 کی جنگ میں وہ واہگہ اٹاری سیکٹر میں دشمن کے خلاف صفِ اوّل میں موجود تھے۔
17 دسمبر کی شب ہدف کی جانب پیش قدمی کے دوران دشمن کی شدید مزاحمت کا سامنا ہوا، جس کے باعث پیش قدمی رک گئی۔ دشمن کی پوزیشن تقریباً 70 میٹر کے فاصلے پر تھی اور مزاحمت کے دوران لائیٹ مشین گن تباہ ہو گئی۔ ایک شہید ساتھی کی مشین گن سنبھال کر لانس نائیک محمد محفوظ نے بھرپور انداز سے دشمن کے مورچے کو نشانہ بنایا۔
شدید زخموں کے باوجود وہ دشمن کے مورچے تک پہنچے اور بھارتی فوج کے مشین گنر کی گردن دبوچ کر اسے ہلاک کر دیا، تاہم اسی مورچے میں دشمن نے سنگین وار کر کے انہیں شہید کر دیا۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بے مثال جرات کا اعتراف بھارتی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل پوری نے بھی کیا اور کہا کہ اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے ایسا دلیر سپاہی نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر محمد محفوظ ان کی فوج میں ہوتے تو انہیں بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز کے لیے نامزد کیا جاتا۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی جرات و شجاعت کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز "نشانِ حیدر” سے نوازا گیا۔ ان کا یومِ شہادت مادر وطن کے لیے افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کی روشن مثال ہے۔

