اسلام آباد (بے نقاب ٹی وی رپورٹ اسلام آباد کی دوپہر پُرسکون تھی مگر لمحوں میں قیامت ٹوٹ پڑی۔منگل کے روز ٹھیک 12 بجکر 39 منٹ پر اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر کی کچہری کے قریب ایک زوردار خودکش دھماکے نے دارالحکومت کی فضا کو لرزا دیا۔دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنی گئی، گاڑیاں الٹ گئیں، اور پارکنگ ایریا آگ کے شعلوں میں بدل گیا۔دل دہلا دینے والا یہ واقعہ بھارت میں ہونے والے دھماکے کے اگلے ہی روز پیش آیا، جس نے سیکیورٹی اداروں اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔دہشت گردی کی یہ لہر کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش لگتی ہے جس کا مقصد پاکستان کے دارالحکومت میں خوف، عدم استحکام اور غیر یقینی کی فضا پھیلانا ہے۔پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور کچہری کے داخلی راستے کے قریب پہنچا اور پولیس کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے، جن میں وکلا، سائلین اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔دھماکے کے بعد پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔عینی شاہدین کے مطابق چند لمحوں کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے پوری زمین ہل گئی ہو۔لوگ خوفزدہ ہو کر عدالت کے اندر بھاگے، کئی زخمی زمین پر تڑپتے رہے، اور ہر سمت دھواں، چیخیں اور شعلے نظر آ رہے تھے۔پمز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، زخمیوں کو فوری طور پر منتقل کیا گیا، جبکہ کچہری ایریا مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا سر موقع سے برآمد کر لیا گیا ہے، جس کے ذریعے شناخت کا عمل جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اشارے ملے ہیں کہ یہ حملہ “بھارتی اسپانسرڈ نیٹ ورک” اور افغان طالبان سے منسلک گروہ “فتنہ الخوارج” کی کارروائی ہو سکتی ہے۔دہشت گرد پاکستان کے حساس اداروں اور عدالتی نظام کو نشانہ بنا کر سیاسی و سماجی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ“خودکش حملہ آور تقریباً 15 منٹ تک موقع پر موجود رہا، وہ کچہری کے اندر داخل ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ جیسے ہی پولیس کی گاڑی پہنچی، اس نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔”انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز وانا میں بھی خودکش دھماکے میں افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے، اور اسلام آباد واقعہ اسی تسلسل کی کڑی محسوس ہوتا ہے۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حملے میں ملوث نیٹ ورک کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں دھماکے کے اگلے ہی روز پاکستان کے دارالحکومت میں خودکش حملہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔اسلام آباد میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے، جبکہ حساس تنصیبات کے گرد سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔دارالحکومت کے دل میں ہونے والا یہ دھماکا صرف ایک حملہ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی پر براہِ راست وار ہے۔سوال یہ ہے کہ حملہ آور اندر تک کیسے پہنچا؟کون سی خامی نے اسے یہ موقع دیا؟اور سب سے اہم — کیا یہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی شروعات ہے؟پاکستان کے عوام ایک بار پھر وہی سوال دہرا رہے ہیں:آخر کب تک؟بےنقاب TV کی یہ خصوصی رپورٹ جاری ہے —سچ… اب دھماکوں کی راکھ میں چھپ نہیں سکے گا۔
اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ ، 12 افراد شہید اور 27 ،، ہندوستانی اسپانسرڈ اور افغان طالبان سے منسلک فتنہ الخوارج” کی کارستانی

