Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اے آئی کے میدان میں بازی پلٹ گئی: ایپل کی واپسی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کون؟

      ویوو X300 FE کی پاکستان میں انٹری؛ 5000 نٹس برائٹنس اور 6500mAh بیٹری کے ساتھ نیا ریکارڈ

      ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی

      مصنوعی ذہانت کا مستقبل: پاکستان نے 29 ممالک کے ساتھ مل کر عالمی اتحاد WAICO قائم کر لیا

      فوڈ ڈیلیوری کا نیا بادشاہ کون؟ اوبر اور ڈیلیوری ہیرو کا 99 ممالک میں راج!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    بھینس، کتے اور قانون کی حکمرانی۔۔ لاہور:چوہدریوں کا ڈیرے پر لیجا کردوشیزہ پر تشدد، پولیس کی مجرمانہ خاموشی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر : اسد مرزا
    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کی خواتین پروٹیکشن ٹیمیں بلاشبہ ایک مثبت اقدام ہیں۔ اعلیٰ ایماندار افسران کی تعیناتیاں بھی قانون کی بالادستی کا ایک شاندار ثبوت ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ چند نالائق اور کرپٹ ماتحت اہلکار ایسے ہیں جو لاہور جیسے چاند شہر پر گرہن ڈال دیتے ہیں۔خدا کی اس بستی میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں بااثر چوہدری قانون کو اپنے ڈیرے پر باندھ کر رکھتے ہیں۔ جسے چاہیں اٹھا لیں، قید کر لیں، تشدد کریں اور پھر پولیس کو حکم دے کر اپنی مرضی کا تماشہ کرائیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کوئی تھرپارکر یا اندرونِ سندھ کا پسماندہ گاؤں ہے؟ جی نہیں، یہ ہے لاہور، پنجاب کا دارالحکومت، جہاں وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق قانون کی حکمرانی قائم ہے۔مناواں کے علاقے میں نیلم اور اس کے شوہر حارث کو اٹھا کر حویلی میں قید کر لیا گیا۔ پلاسٹک کے پائپوں سے تشدد، حالت غیر ہونے پر گھر بلا کر ڈاکٹر سے علاج، اور پھر کسی فلمی سین کی طرح نیلم نے چھپ کر اپنی والدہ کو وائس میسج بھیجا۔ والدہ شہناز بی بی پولیس اسٹیشن گئیں، لیکن جونہی ملزم کا نام زبان سے نکلا تو محرر کی قلم ٹوٹ گئی۔ قلم ٹوٹنے کی یہ واردات پولیس کے قانونی فلسفے کا اعلیٰ شاہکار ہے۔ مقدمہ درج نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ نام بڑے لوگوں کا تھا۔ خاتون نے 15 پر کال کی، ڈولفن بھی پہنچی، پولیس بھی دوڑی لیکن پولیس کے دوڑنے سے پہلے ملزمان کو اطلاع پہنچ گئی۔ ظاہر ہے قانون اندھا تو ہے، لیکن بہروں کی طرح سنتا بہت تیز ہے۔ پولیس کے سامنے بھی شہناز بی بی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا گیا، تاکہ کہیں سچ نہ بول پڑے اور پولیس نیلم تک پہنچ جائے ، جب پولیس ناکام ہوئی تو ملزمان نے بی بی کو عزت کے ساتھ چھوڑ دیا۔ عزت دار رہائی! اب آئیے انصاف کے اگلے منظر کی طرف پولیس نے الزام لگا دیا کہ حارث اور نیلم نے بھینس چوری کی تھی۔ اگر واقعی چوری کی تھی تو مقدمہ کہاں ہے؟ گرفتاری کہاں ہے؟ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ نہ صرف مقدمہ نہیں تھا بلکہ بھینس کی واپسی کے ساتھ ساتھ حارث کی ساس سے امانتا 2 لاکھ 81 ہزار روپے بھی وصول کر لیے گئے۔ اور پھر حارث کو باعزت بری کر دیا گیا۔ کسی افسر نے تھانیدار سے نہ پوچھا کہ چور کو چھوڑا کیوں ؟ واہ رے انصاف، تیرے بھی کیا کہنے۔ بیٹی پر ظلم کی داد رسی کے لیے شہناز بی بی تھانہ مناواں، ڈی ایس پی کے دفاتر کے چکر کاٹتی رہیں۔ مقدمہ درج تو نہ ہوا لیکن چور کے خلاف تفتیشی افسران ملزمان کے ساتھ شہناز بی بی سے صلح کرانے میں زیادہ مصروف نظر آئے شہناز کی انوسٹی گیشن مناواں پولیس چوہدری کی کار پر گارنٹی دینے والے رفیق بلوچ اور بھینس خریدنے والے نوجوان کو اٹھا کر تھانے لے گئے پہلے دباو ڈالا گیا پھر منت کی کہ شہناز سے صلح کروا دو اسے کہیں انصاف مل ہی نہ جائے پھر خود چوہدری رات گئے رفیق بلوچ کو گھر چھوڑ گیا سب حیران تھے کہ پہلے پکڑا ہی کیوں جب اس نے حقیقت بیان کی تو پھر سب پریشان ہو گئے کہ آجکل کے چوہدریوں کو ہو کیا گیا ہے ۔ انصاف کا ایسا کاروباری ماڈل شاید دنیا میں اور کہیں نہ ہو۔اب ذرا لاہور کی دوسری تصویر دیکھیے۔ جیل روڈ میں اگر کوئی آوارہ کتا گم ہو جائے تو پولیس کے افسران کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ سیف سٹی کیمرے، اور پوری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے۔ کتا تو آخر خاتو ن کا تھا۔بس یہی لاہور ہے۔ یہی پولیس ہے۔ یہی ہمارا معاشرہ ہے۔
    جہاں انسان کی عزت، بھینس اور کتے سے بھی ارزاں ہے۔
    اگر یہ الفاظ تلخ لگیں تو معاف کیجیے۔
    یہ حقیقت ہے۔ اور حقیقت ہمیشہ طنز سے زیادہ کڑوی ہوتی ہے۔

     

     

     

     

     

    https://benaqabtv.com/wp-content/uploads/2025/10/WhatsApp-Audio-2025-10-04-at-12.38.55-PM.ogg

    Related Posts

    ’پیٹرول بحران ‘ کیا مافیا آج بھی طاقتور ہے؟ کمیشن رپورٹ ضرور پڑھیں

    سیالکوٹ سے پسرور جانے والی الیکٹرک بس کے شیشے ٹوٹ گئے

    امریکہ ،طلبہ کے ویزا قوانین میں تبدیلی، غیر معینہ مدت تک رہنے کا نظام ختم

    مقبول خبریں

    پاک فوج اور معرکہ حق سے متعلق متنازع بیان، این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو طلب کرلیا

    سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ مارے جانے والے فوجیوں کی شناخت فی الحال جاری نہیں کی جائے گی۔ ان کے نام ان کے اہل خانہ کو مطلع کرنے کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، وہ ہمارے ملک کی خدمت کرتے ہوئے مرے۔

    انگلینڈ نے فرانس کو شکست دے کر عالمی کپ میں تیسرا مقام حاصل کیا، ساکا نے ہیٹ ٹرک کی

    ’پیٹرول بحران ‘ کیا مافیا آج بھی طاقتور ہے؟ کمیشن رپورٹ ضرور پڑھیں

     پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ،آٹھ افرادہلاک

    بلاگ

    تحفظ کی اپیل سے قتل تک ایک جان جو بچائی جا سکتی تھی

    ایران، امریکہ جنگ اوراسرائیل

    نواب ذوالفقار خان کی قیادت سے بلوچستان میں امن کی بحالی ممکن!

    ’’امریکا ایران جنگ کا نیا مرحلہ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.