Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گاڑی مالکان متوجہ ہوں! ہنڈا اٹلس کا ہزاروں گاڑیاں واپس بلانے کا اعلان،

      الیکٹرک گاڑیوں کے لیے موٹروے ٹول ٹیکس معاف! ٹیکس چھوٹ سمیت بڑے ‘سرپرائزز’

      ہرشہری کوگاڑی کا مالک بنانے کافیصلہ ، نئی آٹو پالیسی منظور

      طلبہ کی بڑی پریشانی حل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے گھر بیٹھے ڈگریاں تصدیق کرانے کا طریق کار

      ”مہنگی بجلی بائے بائے“: ٹریٹ بیٹری لمیٹڈ نے ’لیتھیم نیو پاور‘ سیریز لانچ کر دی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    بھینس، کتے اور قانون کی حکمرانی۔۔ لاہور:چوہدریوں کا ڈیرے پر لیجا کردوشیزہ پر تشدد، پولیس کی مجرمانہ خاموشی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر : اسد مرزا
    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کی خواتین پروٹیکشن ٹیمیں بلاشبہ ایک مثبت اقدام ہیں۔ اعلیٰ ایماندار افسران کی تعیناتیاں بھی قانون کی بالادستی کا ایک شاندار ثبوت ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ چند نالائق اور کرپٹ ماتحت اہلکار ایسے ہیں جو لاہور جیسے چاند شہر پر گرہن ڈال دیتے ہیں۔خدا کی اس بستی میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں بااثر چوہدری قانون کو اپنے ڈیرے پر باندھ کر رکھتے ہیں۔ جسے چاہیں اٹھا لیں، قید کر لیں، تشدد کریں اور پھر پولیس کو حکم دے کر اپنی مرضی کا تماشہ کرائیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کوئی تھرپارکر یا اندرونِ سندھ کا پسماندہ گاؤں ہے؟ جی نہیں، یہ ہے لاہور، پنجاب کا دارالحکومت، جہاں وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق قانون کی حکمرانی قائم ہے۔مناواں کے علاقے میں نیلم اور اس کے شوہر حارث کو اٹھا کر حویلی میں قید کر لیا گیا۔ پلاسٹک کے پائپوں سے تشدد، حالت غیر ہونے پر گھر بلا کر ڈاکٹر سے علاج، اور پھر کسی فلمی سین کی طرح نیلم نے چھپ کر اپنی والدہ کو وائس میسج بھیجا۔ والدہ شہناز بی بی پولیس اسٹیشن گئیں، لیکن جونہی ملزم کا نام زبان سے نکلا تو محرر کی قلم ٹوٹ گئی۔ قلم ٹوٹنے کی یہ واردات پولیس کے قانونی فلسفے کا اعلیٰ شاہکار ہے۔ مقدمہ درج نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ نام بڑے لوگوں کا تھا۔ خاتون نے 15 پر کال کی، ڈولفن بھی پہنچی، پولیس بھی دوڑی لیکن پولیس کے دوڑنے سے پہلے ملزمان کو اطلاع پہنچ گئی۔ ظاہر ہے قانون اندھا تو ہے، لیکن بہروں کی طرح سنتا بہت تیز ہے۔ پولیس کے سامنے بھی شہناز بی بی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا گیا، تاکہ کہیں سچ نہ بول پڑے اور پولیس نیلم تک پہنچ جائے ، جب پولیس ناکام ہوئی تو ملزمان نے بی بی کو عزت کے ساتھ چھوڑ دیا۔ عزت دار رہائی! اب آئیے انصاف کے اگلے منظر کی طرف پولیس نے الزام لگا دیا کہ حارث اور نیلم نے بھینس چوری کی تھی۔ اگر واقعی چوری کی تھی تو مقدمہ کہاں ہے؟ گرفتاری کہاں ہے؟ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ نہ صرف مقدمہ نہیں تھا بلکہ بھینس کی واپسی کے ساتھ ساتھ حارث کی ساس سے امانتا 2 لاکھ 81 ہزار روپے بھی وصول کر لیے گئے۔ اور پھر حارث کو باعزت بری کر دیا گیا۔ کسی افسر نے تھانیدار سے نہ پوچھا کہ چور کو چھوڑا کیوں ؟ واہ رے انصاف، تیرے بھی کیا کہنے۔ بیٹی پر ظلم کی داد رسی کے لیے شہناز بی بی تھانہ مناواں، ڈی ایس پی کے دفاتر کے چکر کاٹتی رہیں۔ مقدمہ درج تو نہ ہوا لیکن چور کے خلاف تفتیشی افسران ملزمان کے ساتھ شہناز بی بی سے صلح کرانے میں زیادہ مصروف نظر آئے شہناز کی انوسٹی گیشن مناواں پولیس چوہدری کی کار پر گارنٹی دینے والے رفیق بلوچ اور بھینس خریدنے والے نوجوان کو اٹھا کر تھانے لے گئے پہلے دباو ڈالا گیا پھر منت کی کہ شہناز سے صلح کروا دو اسے کہیں انصاف مل ہی نہ جائے پھر خود چوہدری رات گئے رفیق بلوچ کو گھر چھوڑ گیا سب حیران تھے کہ پہلے پکڑا ہی کیوں جب اس نے حقیقت بیان کی تو پھر سب پریشان ہو گئے کہ آجکل کے چوہدریوں کو ہو کیا گیا ہے ۔ انصاف کا ایسا کاروباری ماڈل شاید دنیا میں اور کہیں نہ ہو۔اب ذرا لاہور کی دوسری تصویر دیکھیے۔ جیل روڈ میں اگر کوئی آوارہ کتا گم ہو جائے تو پولیس کے افسران کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ سیف سٹی کیمرے، اور پوری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے۔ کتا تو آخر خاتو ن کا تھا۔بس یہی لاہور ہے۔ یہی پولیس ہے۔ یہی ہمارا معاشرہ ہے۔
    جہاں انسان کی عزت، بھینس اور کتے سے بھی ارزاں ہے۔
    اگر یہ الفاظ تلخ لگیں تو معاف کیجیے۔
    یہ حقیقت ہے۔ اور حقیقت ہمیشہ طنز سے زیادہ کڑوی ہوتی ہے۔

     

     

     

     

     

    https://benaqabtv.com/wp-content/uploads/2025/10/WhatsApp-Audio-2025-10-04-at-12.38.55-PM.ogg

    Related Posts

    دو روز قبل نہاتے ہوئے ڈوبنے والے 22سالہ نوجوان محبوب علی ولد محمد خان انڑ کی لاش تاحال نہ مل سکی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاصوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے دوسرے روزبھی اجلاس

    تھانہ سٹی پولیس نے زبردستی 12 سالہ بچی سے نکاح کرنے والے 50 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا

    مقبول خبریں

    انڈیا میں رضا پہلوی کی حامی ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی لائیو ڈیش بورڈ کی بدولت ستھرا پنجاب میں بدعنوانی بے نقاب ہوئی:عظمیٰ بخاری

    ٹھٹھہ کے علاقے جھرک میٹنگ ریلوے اسٹیشن کے قریب کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے 4 مزدور جاں بحق جبکہ 5 زخمی

    اب منشیات فروش پنکی کو تمغہ ملنے کا انتظار ہے ، فیصل واوڈا

    ’فتح 4‘ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ،قوم کو مبارکباد، انجنئیرز ،سائنسدانوں کو خراج تحسین

    بلاگ

    مکالمے کا فقدان

    خواتین کی شکایات پر فوری ایکشن، ڈی آئی جی آپریشنز کے بڑے فیصلے، پولیس افسران کیلئے سخت احکامات جاری

    سندھ، مہاجر اور مشترکہ تاریخ: محبت، قربانی اور سیاست کے درمیان ایک سفربرصغیر کی تقسیم

    انمول عرف پنکی کو درپردہ کس کی حمایت حاصل؟ کیس منطقی انجام تک پہنچے گا یا ایک اور فائل بند ہوگی!

    چھٹیوں کے سائے میں دم توڑتی تعلیم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.