Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایپل کا تاریخی قدم: پہلی بار ٹچ اسکرین میک بُک کی تیاری

      کیسا ہوگا سام سنگ کا جدید ترین فون? گلیکسی ایس 27 الٹرا کے نئے ڈیزائن، طاقتور بیٹری اور شاندار فیچرز سے متعلق تفصیلات لیک

      فٹنس سرٹیفیکیٹ لینے کی مدت بڑھا دی گئی، لاہور میں اب مصنوعی بارش کی ضرورت نہیں پڑے گی: مریم اورنگزیب

      ایمازون کا تاریخی قدم: پہلی بار اینڈرائیڈ اور ‘الیکسا پلس’ سے لیس مہنگے ٹیبلٹس متعارف

      دنیا کی پہلی ‘نیوکلیئر کلاک’ تیار

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    نیپال کی عبوری وزیراعظم کےلئے سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی کے نام پر اتفاق رائے

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کٹھمنڈو : نیپال کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے عبوری رہنما کے طور پر ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ نیپالی فوج کے ترجمان کے مطابق، آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدل نے بدھ کو اہم شخصیات اور "جین زی” نمائندوں سے ملاقات کی۔  جس میں  عبوری حکومت کی قیادت کے لیے سوشیلا کارکی  کے نام پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

    سوشیلا کارکی کے علاوہ کٹھمنڈو کے میئر بالن شاہ اور بجلی بورڈ کے سابق سربراہ کلمن گھسنگ کے نام بھی آئندہ رہنما کے طور پر زیرِغور آئے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، رمن کمار کرن  کے  مطابق جین زی تحریک کے مظاہرین چاہتے ہیں کہ کارکی کو عبوری وزیرِاعظم بنایا جائے۔

    ’جین زی‘ تحریک میں نوجوانوں کے درمیان مشہور اور کٹھمنڈو کے میئر، بالین شاہ نے بھی سوشیلا کارکی کے نام کی حمایت کی ہے۔

    سوشیلا کارکی کون ہیں ؟

    سوشیلا کارکی کی پیدائش 7 جون 1952 کو نیپال کے بیراٹ نگر میں ہوئی۔ انہوں نے 1972 میں بیراٹ نگر سے گریجویشن کیا۔

    1975 میں انہوں نے بھارت کی بنارس ہندو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 1978 میں نپال کی تری بھون یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔

    1979 میں انہوں نے بیراٹ نگر میں وکالت شروع کی۔ ان کی عدالتی زندگی کا اہم موڑ 2009 میں آیا جب انہیں سپریم کورٹ میں عارضی جج مقرر کیا گیا۔ سن دو ہزار دس میں وہ مستقل جج بن گئیں۔ 2016 میں کچھ عرصے کے لیے وہ قائم مقام چیف جسٹس رہیں اور 11 جولائی 2016 سے 6 جون 2017 تک نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    سوشیلا کارکی کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اپریل 2017 میں اس وقت کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی۔ ان پرالزام تھا کہ انہوں نے جانبداری کی اور حکومت کے کام میں مداخلت کی۔ اس کے بعد انہیں عہدے سے معطل کر دیا گیا۔

    عوام نے عدلیہ کی آزادی کے حق میں آواز بلند کی اور سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا۔

    بڑھتے دباؤ کے باعث چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کو تحریک واپس لینا پڑی۔ اس واقعے کے بعد سوشیلا کارکی کی شناخت ایک ایسی جج کے طور پر بنی جو اقتدار کے دباؤ کے آگے نہیں جھکتی۔

     

     

    Related Posts

    جنتر منتر پر احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن

    روس کا یوکرین پر ہلاکت خیز گلائیڈ بم حملہ: 3 بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق

    ایران کے میزائل کارخانے محفوظ اور ذخیرے میں اضافہ جاری: بلومبرگ کا دعویٰ، امریکا اور اسرائیل کی نئی حکمت عملی

    مقبول خبریں

    "ملتان پولیس میں تبدیلی کی کہانی”: میرٹ کی جیت ، سازش ناکام ، اختر فاروق نے چارج سنبھال لیا

    جنتر منتر پر احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن

    ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے: 7 میں سے ایک شخص دماغی صحت کے مسائل سے پریشان

    روس کا یوکرین پر ہلاکت خیز گلائیڈ بم حملہ: 3 بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق

    ایران کے میزائل کارخانے محفوظ اور ذخیرے میں اضافہ جاری: بلومبرگ کا دعویٰ، امریکا اور اسرائیل کی نئی حکمت عملی

    بلاگ

    ریت کی دیوار پر بیٹھا پختونخوا کا اقتدار اور آرٹیکل 232 کی گونج

    اکیس سال بعد بھی ایک ہی سوال، آخر ہم کب سنبھلیں گے؟

    بہتر تعلیم کے لیے اسکول، استاد اور والدین کا ساتھ

    سوچیئے۔ ضرور سوچئیے گا

    آئی جی جیل خانہ جات کو دی گئی رشوت کی رقم کہاں سے آئی؟ بڑے راز کھل گئے افسران پریشان،ایک اہم ملاقات میں عملدرامد کرانے والا سیل خاموش،ملتان سی پی او کا تبادلہ خطرے میں، اختر فاروق انتظار میں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.