Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آج انٹر نیٹ سروسز کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی،بندش سے متعلقہ خبریں بے بنیاد ہیں، پی ٹی اے

      ارفع کریم کی 14ویں برسی: مریم نواز کا خراجِ تحسین، ‘نواز شریف آئی ٹی سٹی’ کے ذریعے ہر بیٹی کو ارفع بنانے کا عزم

      بھوکی شارک پھر متحرک،کل انٹرنیٹ بند؟

      دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی ہینلے فہرست جاری، پاکستان کانمبر کون سا؟

      سام سنگ گلیکسی ایس 26 کی لانچنگ، پری بکنگ کب سے شروع ہوگی؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      بلیک ہاک ڈاؤن۔۔۔ اسرائیلی فوج کا ہیلی کاپٹر غزہ میں نیچے جاگرا

      ایران پر امریکی حملہ آخری لمحات میں منسوخ

      قطر، العدید ائیر بیس سے سٹریٹو ٹینکر KC-135 طیاروں کی اڑان

      جب شکاری خود شکار بن گیا

       شام میں بڑی فوجی پیش قدمی: ترک اسپیشل فورسز اور شامی فوج کرد علاقوں کی جانب روانہ

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    نیپال کی عبوری وزیراعظم کےلئے سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی کے نام پر اتفاق رائے

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کٹھمنڈو : نیپال کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے عبوری رہنما کے طور پر ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ نیپالی فوج کے ترجمان کے مطابق، آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدل نے بدھ کو اہم شخصیات اور "جین زی” نمائندوں سے ملاقات کی۔  جس میں  عبوری حکومت کی قیادت کے لیے سوشیلا کارکی  کے نام پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

    سوشیلا کارکی کے علاوہ کٹھمنڈو کے میئر بالن شاہ اور بجلی بورڈ کے سابق سربراہ کلمن گھسنگ کے نام بھی آئندہ رہنما کے طور پر زیرِغور آئے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، رمن کمار کرن  کے  مطابق جین زی تحریک کے مظاہرین چاہتے ہیں کہ کارکی کو عبوری وزیرِاعظم بنایا جائے۔

    ’جین زی‘ تحریک میں نوجوانوں کے درمیان مشہور اور کٹھمنڈو کے میئر، بالین شاہ نے بھی سوشیلا کارکی کے نام کی حمایت کی ہے۔

    سوشیلا کارکی کون ہیں ؟

    سوشیلا کارکی کی پیدائش 7 جون 1952 کو نیپال کے بیراٹ نگر میں ہوئی۔ انہوں نے 1972 میں بیراٹ نگر سے گریجویشن کیا۔

    1975 میں انہوں نے بھارت کی بنارس ہندو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 1978 میں نپال کی تری بھون یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔

    1979 میں انہوں نے بیراٹ نگر میں وکالت شروع کی۔ ان کی عدالتی زندگی کا اہم موڑ 2009 میں آیا جب انہیں سپریم کورٹ میں عارضی جج مقرر کیا گیا۔ سن دو ہزار دس میں وہ مستقل جج بن گئیں۔ 2016 میں کچھ عرصے کے لیے وہ قائم مقام چیف جسٹس رہیں اور 11 جولائی 2016 سے 6 جون 2017 تک نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    سوشیلا کارکی کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اپریل 2017 میں اس وقت کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی۔ ان پرالزام تھا کہ انہوں نے جانبداری کی اور حکومت کے کام میں مداخلت کی۔ اس کے بعد انہیں عہدے سے معطل کر دیا گیا۔

    عوام نے عدلیہ کی آزادی کے حق میں آواز بلند کی اور سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا۔

    بڑھتے دباؤ کے باعث چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کو تحریک واپس لینا پڑی۔ اس واقعے کے بعد سوشیلا کارکی کی شناخت ایک ایسی جج کے طور پر بنی جو اقتدار کے دباؤ کے آگے نہیں جھکتی۔

     

     

    Related Posts

    ناکامی کے باوجود بند کمروں کے فیصلوں سے باز نہیں آیا جا رہا، سہیل آفریدی کا دورہ وادی تیراہ، عوام کی مشکلات کا جائزہ لیا

    وینزویلا کے تیل پر امریکی کنٹرول کا آغاز: پہلا سودا 500 ملین ڈالر میں طے، قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ

    جنوبی کوریا، مارشل لالگانے پر سزائے موت کی بجائے سابق صدر کو صرف 5 سال قید

    مقبول خبریں

    انڈر 19 ورلڈ کرکٹ کپ2026، پاکستان پہلا میچ انگلینڈ سے ہار گیا

    انڈر19 ورلڈ کرکٹ کپ 2026، افتتاحی میچ میں بھارت نے امریکاکو ہرادیا، ہینیل پیٹل کی 16رنز کے عوض 5 وکٹیں

    کیا اسرائیل نے ایران کو خاموش پیغام دے دیا؟ ڈیمونا ری ایکٹر کے قریب پراسرار زلزلے پر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔

    متنازع ٹویٹ کیس، ایڈووکیٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اے ایس پیز کے لیے پلاٹس، بیجنگ میں تربیت اور تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

    بلاگ

    “جھپیاں دے پیسے الگ تے پپیاں دے پیسے الگ” “ناچو ناچو، پر آواز ہولی رکھو” ساڈا ویہہ اے، جرم نئیں… پر قانون نوں ایہہ سمجھ آ گئی اے

    اربوں کے فنڈز، پھر بھی خستہ حال گاڑیاں ،، مسئلہ پیسے کا نہیں، نظام کا ہے ٹریکر لگیں تو حقیقت سامنے آئے

    طاقت کے اصول اور جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔ سپیڈ بریکر۔۔۔ از میاں حبیب

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن۔۔۔ کالم نگار ملک محمد سلمان

    ویٹو پاور کے سائے میں انصاف کی پکار: وینزویلا کے صدر کی رہائی کا مطالبہ، مگر سلامتی کونسل عملی کارروائی سے قاصر

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.