یروشلم:
اسرائیل کی سیاست میں ایک ڈرامائی موڑ سامنے آیا ہے جہاں صدر اسحاق ہرزوگ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے شدید ترین سیاسی حریف اور حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ (Gadi Eisenkot) کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ نیتن یاہو کے طویل اقتدار اور ان کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے ایک بڑا اور تاریخی سیاسی دھچکا مانا جا رہا ہے۔حالیہ عام انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی ڈیڈلاک پیدا ہو گیا تھا، جس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ مکمل کیا۔ صدارتی دفتر کے مطابق، گادی آئزن کوٹ کو 67 قانون سازوں کی حمایت حاصل ہو گئی ہے جبکہ بنجمن نیتن یاہو کے حامی بلاک کو 46 ارکان کی حمایت ملی۔ آئزن کوٹ کی حمایت کرنے والوں میں عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں اور اپوزیشن کے وہ دائیں بازو کے اراکین بھی شامل ہیں جنہوں نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف سخت مؤقف اپنا رکھا ہے۔ 66 سالہ گادی آئزن کوٹ اسرائیل کی ڈیفنس فورسز (IDF) کے سابق چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔ وہ 2022 میں سیاست میں داخل ہوئے اور حماس کے ساتھ جنگ کے دوران بنجمن نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کا بھی حصہ رہے، تاہم بعد میں اختلافات کی وجہ سے وہ حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن میں شامل ہو گئے تھے قانون کے مطابق گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن کا وقت ملے گا، جسے ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ اس مدت میں اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسرائیل میں نیتن یاہو کے طویل دورِ اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا، بصورت دیگر ملک کو ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

