لاہور/واشنگٹن:ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی میٹا (Meta) نے انسٹاگرام اور فیس بک کے کام کرنے کے طریقہ کار میں متعارف کروائی جانے والی ایک متنازع تبدیلی کے حوالے سے بالآخر اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
میٹا کی جانب سے کمرشل ٹرمز (Commercial Terms)، پروڈکٹ کیٹلاگ ٹرمز اور ایڈورٹائزنگ سے متعلق دیگر نئی شرائط کا اعلان اکتوبر کے وسط میں کیا گیا تھا، جن کے تحت فیس بک اور انسٹاگرام کو یہ اختیار ملنا تھا کہ وہ پلیٹ فارمز پر موجود کاروباری اکاؤنٹس اور ویب سائٹس سے مواد حاصل (اسکریپ) کر کے اسے اپنے مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کر سکیں۔
اس خبر کے سامنے آتے ہی دنیا بھر کے پبلشرز، کاروباری حلقوں اور میڈیا کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ناقدین اور قانون دانوں کا مؤقف تھا کہ ان شرائط سے ویب سائٹ مالکان کے حقوق کا استحصال ہوگا اور انہیں اپنے ہی ڈیٹا پر مکمل کنٹرول سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ برطانوی مسابقتی ادارے (CMA) سمیت مختلف ممالک میں قانونی سوالات اٹھائے جانے کے بعد اب کمپنی نے فی الحال ان تمام متنازع ترامیم کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے اور پرانے قواعد کو ہی بحال رکھا ہے۔
میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھے گی تاکہ اس معاملے کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

