ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے صنعتی شعبے میں تنخواہوں میں اضافے، نوکریوں کی بحالی اور فیکٹریوں کی مسلسل بندش کے خلاف جاری گارمنٹس ورکرز کی تحریک شدید پرتشدد ہنگاموں اور فسادات کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
ڈھاکہ، گزِی پور، ساوار اور اشولیا کے اہم صنعتی زونز میں سیکڑوں فیکٹریوں کی تالہ بندی اور لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔
🇧🇩 Trabajadores textiles de Bangladés protestan para exigir aumentos salariales
▶️ Trabajadores del sector textil de Bangladés realizaron manifestaciones y bloquearon carreteras en varias zonas industriales para exigir mejoras salariales ante el aumento del costo de vida.
@Nexo_Latino
— Señor del caos visual ☭ 🇨🇱 (@darwin_zone) November 1, 2026
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم، شاہراہوں کی ناکہ بندی اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت شدید معاشی و سیاسی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، کم از کم 30,000 ٹکا ماہانہ کم سے کم اجرت کے مطالبات پر جاری احتجاج نے پچھلے 48 گھنٹوں میں انتہائی رخ اختیار کر لیا ہے۔
ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے باعث 500 سے زائد تیار لباس (RMG) بنانے والی فیکٹریوں میں پیداواری عمل مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔
میر پور، گزِی پور اور اشولیا میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس گاڑیوں کو آگ لگا دی اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔
صنعتی بحران کے باعث اب تک لاکھوں مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سڑکوں پر موجود مزدوروں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان نے وزرا اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کا اہم اجلاس طلب کیا اور انڈسٹری کی حفاظت کے لیے احکامات جاری کیے۔
وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فیکٹریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے اور پیداوار بلا تاخیر بحال کرنے کا حکم دیا۔وزارتِ محنت و روزگار کی جانب سے نئی اجرت کا فریم ورک اور تنخواہوں کا ہیکل طے کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت نے مزدور رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ تنخواہوں پر حتمی فیصلہ طے پانے تک فیکٹریوں کا کام بند نہ کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے ویج بورڈ تشکیل دیے جانے کے باوجود مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی اجرت میں فوری اور منصفانہ اضافہ نافذ نہیں ہوتا اور بند فیکٹریاں نہیں کھولی جاتیں، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

