تہران :ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت کو دو روز کے اندر بحال کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی بنیاد ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے جسے اب مختصر کر دیا گیا ہے اور یہ ’دو دن کے اندر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ ’جب تک امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی اور ایران کے جائز مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جائے گا۔‘
’واحد حقیقی اور قابلِ عمل تجویز تہران کا پیش کردہ منصوبہ ہے۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ خط ’کوئی نئی تجویز پیش نہیں کرتا‘۔ ان کے مطابق ثالثوں کے ذریعے کسی بھی بالواسطہ رابطے کی بنیاد ایران کا وہی سات نکاتی منصوبہ ہے۔
بقائی نے مزید کہا: ’چونکہ یہ خط سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے معزز سیکریٹری (محسن رضائی) کے نام تھا، اس لیے اس کے جواب کے طریقہ کار اور نوعیت کا فیصلہ کرنا انھی کا اختیار ہو گا۔‘
خیال رہے کہ وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کو ایک خط بھیجا ہے جس میں امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کی بحالی اور بعض ضروری اشیا، جن میں ادویات بھی شامل ہیں، ایران درآمد کرنے میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔
امریکا سے معاہدہ ہوگیا تو آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک 2 روز میں بحال کردینگے، ایران

