ملتان (رپورٹ: ملک جابر عباس)
لودھراں کی عدالتی تاریخ میں اراضی پر ناجائز قبضے کے خلاف ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لودھراں محمد ایاز نے "پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی ایکٹ” کے تحت تین مختلف مقدمات میں نامزد ملزم سردار حسین کو مجموعی طور پر 15 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔مقدمے کے دوران مدعیان کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ راؤ منور حسین ساجد کی سربراہی میں انتہائی مؤثر، مدلل اور بھرپور قانونی پیروی کی گئی، جس کے نتیجے میں متاثرہ اراضی مالکان کو طویل قانونی جدوجہد کے بعد انصاف فراہم کیا گیا۔ مضبوط قانونی دلائل اور پیشہ ورانہ مہارت نے اس مقدمے کے فیصلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں تینوں مقدمات کے تحت مجرم کو پانچ، پانچ سال قیدِ بامشقت کی سزا سنانے کے ساتھ ساتھ متاثرین کو بالترتیب دو لاکھ، تین لاکھ اور پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد عدالتی حکم پر مجرم کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں، متعلقہ ریونیو حکام کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ تین روز کے اندر متنازعہ اراضی کا قبضہ اصل مالکان کے حوالے کر کے عمل درآمد کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔قانونی حلقوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو ناجائز قبضوں کے خلاف ایک سنگ میل اور اراضی مالکان کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

