لاہور/اسلام آباد: طبی ماہرین اور حالیہ سائنسی تحقیقات نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ نیند کی کمی، بے قاعدہ اوقات اور خراب معیار کی نیند انسانی صحت بالخصوص فالج (Stroke) کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔ آج کی مصروف ترین طرزِ زندگی میں بہت سے افراد اپنی نیند کے معمولات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جو کہ دل اور دماغی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق اس خطرناک رجحان کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:نیند کی کمی یا بے قاعدگی جسم کے نظام کو شدید دباؤ (Stress) میں مبتلا کر دیتی ہے، جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر فالج کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ باقاعدہ نیند دماغ کو مرمت کرنے اور جسمانی افعال کو توازن میں رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جب یہ قدرتی توازن بگڑتا ہے تو خون کی شریانوں اور دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی خرابی میٹابولزم کو بری طرح متاثر کرتی ہے، جس سے جسم میں وزن کا بڑھنا، انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance) اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے — اور یہ تمام عوامل بالآخر فالج کا سبب بن سکتے ہیں۔ مختلف طبی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ روزانہ 6 گھنٹے سے کم یا ضرورت سے زیادہ (مثلاً 9 گھنٹے سے زائد) سوتے ہیں اور جن کے سونے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا، ان میں فالج کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے جو روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی متوازن اور پرسکون نیند لیتے ہیں۔ ماہرین اس سنگین خطرے سے بچنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں: روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت کو اپنائیں۔ بالغ افراد کے لیے روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی پرسکون اور معیاری نیند انتہائی ضروری ہے۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل، لیپ ٹاپ یا اسکرین کے استعمال سے گریز کریں اور کمرے میں پرسکون ماحول کو یقینی بنائیں۔

