تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سکریٹری اور ممتاز عسکری رہنما محسن رضائی نے ملک کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ایک انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سے منسلک باخبر خبر رساں ادارے ‘نور نیوز’ (Nour News) نے منگل کے روز اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی تصدیق کی ہے۔
نور نیوز کے مطابق اس ہنگامی ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی قومی سلامتی، عالمی سطح پر جاری کشیدگی، اسٹریٹجک تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz) کے انتظامی امور و کنٹرول، ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور خطے میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ”نہ جنگ نہ امن“ (Neither War Nor Peace) کی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسی پیشرفت کے دوران، ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی منگل کے روز میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے الگ ملاقات کی ہے۔ محمد باقر قالیباف نے تمام تر افواہوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی کہ رہبرِ اعلیٰ مکمل طور پر صحت مند اور اپنے امور کی انجام دہی کے لیے مکمل فعال ہیں۔
سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی، تنگہ ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکیوں اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں تہران میں ہونے والی یہ اعلیٰ ترین ملاقاتیں ایران کی ممکنہ نئی حکمتِ عملی یا سفارتی پیش رفت کی جانب بڑا اشارہ ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی سکیورٹی کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے بقول واشنگٹن قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
منگل کو ایکس پر جاری بیان میں رضائی نے لکھا کہ ’امریکہ نے خطے کے کسی بھی ملک کو سکیورٹی فراہم نہیں کی اور سکیورٹی ضمانتیں دینے میں واشنگٹن کی ناکامی اب واضح ہو چکی ہے۔ مغربی ایشیا میں سکیورٹی کا سرچشمہ خود خطہ ہونا چاہیے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکا جانا چاہیے۔‘
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے خلیجی ممالک میں قائم متعدد فوجی اڈے جنگ کے عروج کے دوران بارہا حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
محسن رضائی کی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات، خطے کے ممالک سیکیورٹی کیلئے امریکا پر انحصار نہ کریں، رضائی

