نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور انتخابات کے فوری انعقاد کے مطالبے کو لے کر طلبہ کا احتجاج منگل کے روز سولہویں دن بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ کیمپس میں طلبہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انتظامیہ سے مطالبات کی منظوری پر اصرار کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، طلبہ کا اصرار ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مبہم یقین دہانیوں کے بجائے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کی حتمی اور واضح تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس حکم کو کہ "یونین کا آئین بننے کے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے”، طلبہ نے ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور احتجاج ختم کرنے سے صریحاً انکار کر دیا ہے۔
احتجاج کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ طلبہ کی دھکم پیل کے ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کیمپس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر جامعہ انتظامیہ نے 24 اکتوبر سے تمام کورسز کی باقاعدہ کلاسز کو 8 نومبر تک آن لائن منتقل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ کے طلبہ کی اس تحریک کو مختلف سابق طلبہ، وکلاء، نامور ماہرینِ تعلیم اور ملک بھر کی دیگر طلبہ تنظیموں کی جانب سے مسلسل بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی دھرنے کے مقام کو خالی کرنے کی بارہا ہدایات اور وارننگز کے باوجود طلبہ نے اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔

