کیلیفورنیا / نیویارک (ویب ڈیسک): سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا (Meta) نے اپنی تجارتی شرائط (Commercial Terms) میں اہم ترمیمی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وہ تمام متنازع شقیں ختم کر دی ہیں جن کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کمپنی نیوز پبلشرز کے مواد کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ترمیم شدہ شرائط 30 اکتوبر سے لاگو ہوں گی۔ نئی پالیسی میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ویب سائٹس کی خودکار طریقہ کار (Automated Crawling) کا مقصد محض اشتہاری خدمات اور کاروباری پراڈکٹس کی ترقی، بہتری، تحقیق اور ان کی دیکھ بھال تک محدود رہے گا۔
بوٹس اور سکرپرز کا محدود استعمال
نئی شرائط کے تحت بھی میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز کا استعمال کرنے والے کاروباری اداروں کی ویب سائٹس سے مواد اکٹھا کرنے کے لیے ویب سکرپرز، بوٹس اور کرالرز (Crawlers) جیسے خودکار ٹولز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم یہ صرف اشتہاری مقاصد کے لیے محدود رہے گا۔
اس سے قبل تجویز کردہ شرائط میں یہ شق شامل تھی کہ حاصل کردہ مواد کو میٹا کی پراڈکٹس کو "ٹرین (Train)” کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس شق پر پبلشرز اور قانون دانوں کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جن کا کہنا تھا کہ اس طرح کاپی رائٹ شدہ خبروں کے مواد کو اے آئی ماڈلز کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ میٹا نے اب اس لفظ کو مکمل طور پر حذف کر دیا ہے۔
میٹا کے ترجمان ڈینئیل رابرٹس نے واضح کیا ہے کہ اس ترمیم سے کمپنی کی موجودہ ویب اسکریپنگ کی عملی رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویب سائٹ مالکان اپنی ترجیحات کے مطابق پہلے کی طرح robots.txt انسٹرکشنز کا استعمال کر کے میٹا کے بوٹس کی رسائی کو روک یا اجازت دے سکتے ہیں۔
میٹا کے نائب صدر برائے مواصلات اینڈی اسٹون نے ان افواہوں کی تردید کی کہ اس پالیسی کا مقصد خبروں کی ویب سائٹس کا مواد چوری (Scrape) کرنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ٹولز صرف کاروباری اور اشتہاری مصنوعات کی درست معلومات حاصل کرنے اور صارفین کو بہتر مواد تجویز کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

