لاہور (حافظ نعیم سے): وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں لائیوسٹاک (پالتو مویشیوں اور مال مویشی) کے شعبے میں ایک نئے اور ترقی یافتہ دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت پنجاب کی موثر حکمت عملی اور "لائیوسٹاک کارڈ” جیسے انقلابی اقدامات کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں 4 لاکھ مویشی تیار کیے گئے ہیں، جس سے دیہی فارمرز کو اربوں روپے کا منافع حاصل ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ پنجاب کو خطے میں لائیوسٹاک کا ہب بنانا ان کا بنیادی ہدف ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لائیوسٹاک کارڈ کے ذریعے ہر فارمر کو فی مویشی 27 ہزار روپے تک کا براہ راست منافع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے بلکہ دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔
: پنجاب میں 8 ایف ایم ڈی (FMD) کمپارٹمنٹ نوٹیفائڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس سال مزید 7 نئے کمپارٹمنٹس بنائے جائیں گے۔ ان اقدامات کی بدولت چین، یورپ اور امریکہ کو معیاری مویشیوں کی ایکسپورٹ کے دروازے کھل گئے ہیں۔
صوبے سے اینیمل ایکسپورٹ میں 43 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور لائیوسٹاک کارڈ کے تحت اب تک 129,581 مویشی برآمد کیے جا چکے ہیں۔
صوبے کے مختلف شہروں سے مویشیوں کی بڑی تعداد برآمد ہوئی؛ جن میں لاہور سے 20 ہزار، بہاولپور سے 24,297، فیصل آباد سے 12,529، گوجرانوالہ اور گجرات سے 21 ہزار، ملتان سے 27 ہزار، سرگودھا سے 22 ہزار، اور ساہیوال سے 2,661 مویشی شامل ہیں۔
پنجاب میں 5 میٹ پراسسنگ پلانٹس، 5 ماڈرن سلاٹر ہاؤس، میٹ پیکنگ ہاؤسز، کمرشل اسکیل فیڈلاٹس اور کارپوریٹ فیڈلاٹس قائم کیے جائیں گے۔
لائیوسٹاک انٹیگریٹڈ ویلیو انہانسمنٹ کے لیے حکومت پنجاب 19 ارب روپے کی فنانسنگ سبسڈی دے گی، جبکہ میٹ ویلیو چین کے لیے 65 ارب روپے کی پرائیویٹ سرمایہ کاری متوقع ہے۔
پنجاب میں پہلی بار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایف ایم ڈی ویکسین پروڈیکشن یونٹ قائم کیا جائے گا جس میں 28 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
"لائیوسٹاک کنکٹ سسٹم” کے تحت 1,725 فیٹننگ فارمز، 20 ایکسپورٹ مذبح خانوں، 88 میٹ ایکسپورٹرز اور 34 میٹ ٹریڈرز کو براہ راست منسلک کیا گیا ہے۔
لائیوسٹاک کارڈ کے اجراء سے پنجاب میں دیہی خواتین فارمرز کی تعداد جو پہلے صرف 90 تھی، اب بڑھ کر 1,107 تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ پنجاب کے لائیوسٹاک فارمرز کو نیشنل ایکسپورٹرز اور بین الاقوامی ویب سائٹس کے ساتھ منسلک کرنا چاہتی ہیں تاکہ کسانوں اور بیوپاریوں کو ان کی محنت کا بہترین صلہ براہ راست مل سکے۔

