تحریر :راجہ نورالٰہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی بنیاد ہوتی ہے۔ جو قومیں علم و تحقیق کو اپنا شعار بناتی ہیں، وہی دنیا میں عزت، وقار اور ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ تعلیم محض کتابیں پڑھنے، امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے اور اسناد لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی شخصیت سنوارنے، شعور بیدار کرنے، کردار سازی اور معاشرے کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے تعلیم کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ ہمارا روشن مستقبل معیاری تعلیم، جدید علوم، فنی مہارتوں اور نوجوان نسل کی بہترین تربیت سے وابستہ ہے۔
اسی تناظر میں گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول جوہر آباد میں تعلیمی بورڈ سرگودھا کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات میں اسناد اور انعامات تقسیم کرنے کی پروقار تقریب ایک اہم تعلیمی سرگرمی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک منصور عثمان اعوان تھے، جبکہ صدارت چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن ضلع خوشاب محمد عیسیٰ لالی نے کی۔ تقریب میں محکمہ تعلیم کے افسران، تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات، والدین اور معززینِ علاقہ کی شرکت اس امر کی عکاس تھی کہ تعلیم کی ترقی ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک منصور عثمان اعوان نے اپنے خطاب میں بجا طور پر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے اور پاکستان کی ترقی کے لیے پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا یہ پیغام ہمارے قومی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ آج پاکستان کو ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے جو جدید علوم سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی ذمہ داریوں کا احساس، بلند کردار، مثبت سوچ اور وطن سے محبت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں۔
ملک منصور عثمان اعوان نے خوشاب کی سرزمین کو زرخیز قرار دیتے ہوئے یہاں کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو قوم کا سرمایۂ افتخار کہا۔ بلاشبہ ضلع خوشاب قدرتی وسائل، زرخیز زمین، باصلاحیت نوجوانوں اور محنتی لوگوں کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس علاقے کے طلبہ و طالبات نے تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں مناسب رہنمائی، معیاری تعلیمی ماحول اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ کسی بھی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ترقی کے مستقل اور مؤثر مواقع پیدا کیے جائیں۔جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات اور اقدامات تعلیمی معیار بلند کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک منصور عثمان اعوان کی جانب سے خوشاب یونیورسٹی کے قیام کو ترجیحی بنیادوں پر عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار ضلع کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے ایک حوصلہ افزاء پیغام ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیاری ادارے کسی بھی علاقے کی علمی، معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کا قیام نہ صرف طلبہ و طالبات کو اپنے ضلع میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع فراہم کرسکتا ہے، بلکہ اس سے تحقیق، روزگار، کاروبار اور علمی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
بالخصوص ان طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے جو مالی مشکلات یا طویل سفری فاصلے کے باعث بڑے شہروں میں تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر خوشاب میں ایک معیاری یونیورسٹی قائم ہوتی ہے تو یہ مقامی نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
یونیورسٹی کا قیام صرف ایک عمارت تعمیر کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے علمی ماحول کی تشکیل ہے جہاں تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور جدید علوم کو فروغ حاصل ہو۔
مہمان خصوصی نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم حاصل کریں۔ یہ پیغام موجودہ دور کی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے روایتی تعلیم کے ساتھ ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
کمپیوٹر پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید شعبوں میں مہارت نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ اسی طرح فنی و پیشہ ورانہ تعلیم نوجوانوں کو ہنرمند بناکر خود روزگاری اور معاشی خودمختاری کی طرف لے جاسکتی ہے۔
تعلیم کا حقیقی مقصد ایسا باشعور، باصلاحیت اور خوداعتماد نوجوان تیار کرنا ہے جو اپنی ذات، خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے مفید ثابت ہو۔
ملک منصور عثمان اعوان نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے لفٹ اریگیشن سسٹم متعارف کرانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ضلع خوشاب کی معیشت میں زراعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ کسانوں کی خوشحالی کا براہِ راست تعلق پانی کی دستیابی، جدید زرعی طریقوں اور مناسب پیداواری سہولیات سے ہے۔
اگر زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور کسانوں کو جدید زرعی تحقیق سے آگاہ کیا جائے تو نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے، بلکہ پانی جیسے قیمتی وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ لفٹ اریگیشن سمیت دیگر آبپاشی منصوبوں کی افادیت کا انحصار مقامی جغرافیائی حالات، پانی کے ذرائع، توانائی کے اخراجات اور تکنیکی امکانات پر ہوگا۔ اس لیے ایسے منصوبوں کو جامع فزیبلٹی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔
تعلیم اور زراعت بظاہر دو مختلف شعبے دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا باہمی تعلق بہت گہرا ہے۔ زرعی تعلیم، جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کو بہتر پیداوار حاصل کرنے میں مدد دی جاسکتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان زراعت کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تو پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔
اس پروقار تقریب کا ایک اہم پہلو ان سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کرام کی خدمات کا اعتراف بھی تھا جن کی محنت اور رہنمائی کے نتیجے میں طلبہ و طالبات نے تعلیمی بورڈ سرگودھا میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اساتذہ کرام کسی بھی معاشرے کے حقیقی معمار ہوتے ہیں۔ وہ طلبہ کو علم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت، سوچ، کردار اور مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک اچھا استاد اپنے شاگردوں میں خوداعتمادی، محنت، دیانت داری اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے اساتذہ کرام کی حوصلہ افزائی، ان کی پیشہ ورانہ تربیت اور انہیں مناسب تدریسی سہولیات فراہم کرنا حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تقریب میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن ضلع خوشاب محمد عیسیٰ لالی نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے سپاس نامہ پیش کیا، جبکہ مہمان خصوصی نے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے۔ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کرام کو اعزازی اسناد سے نوازنا بھی ایک مثبت اقدام تھا، کیونکہ ایسی تقریبات محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی اور دوسروں کے لیے مثال قائم کرتی ہیں۔
اس موقع پر محکمہ تعلیم کے دیگر افسران، جن میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری سکولز خوشاب فیض الحسن ملک، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تحصیل نورپور تھل ظہیر عباس بھٹی، ڈپٹی ڈی ای او خوشاب ملک قیصر عباس کھارا، ڈی ای او زنانہ خوشاب امانت خاتون اور ڈپٹی ڈی ای او سیکنڈری سکولز خوشاب ملک شیر بہادر شامل تھے، کی موجودگی بھی تقریب کی اہمیت کو اجاگر کرتی تھی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن خوشاب ملک شاہد اقبال نے نقابت کے فرائض احسن انداز میں انجام دیے، جبکہ دیگر تعلیمی شخصیات، اساتذہ کرام، والدین اور سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی ، سئنیر ہیڈماسٹرز ملک امتیاز حسین بوڑانہ ،سلطان سکندر ملک ،شمس الضحیٰ، ٹیچرز احمد حیات ،نگاہ حسین بھٹی ، ملک اللہ داد و دیگر اساتذہ کرام نے بھی اس تقریب میں بھرپورشرکت کی۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو حصولِ تعلیم کے لیے بھرپور مواقع فراہم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے کی تعلیمی کامیابی صرف سکول یا استاد کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ والدین کی توجہ، حوصلہ افزائی اور تربیت بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو سمجھیں، ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی رہنمائی کریں اور انہیں کتابوں سے دوستی، وقت کی پابندی، مثبت سوچ اور خوداعتمادی کی ترغیب دیں۔ اسی طرح معاشرے کے صاحبِ ثروت افراد اور مخیر حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ مستحق طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے، سکولوں کی بہتری اور جدید سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔
جب معاشرے کے تمام طبقات ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرتے ہیں تو ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ممکن ہوجاتا ہے۔
گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول جوہر آباد میں منعقدہ یہ تقریب محض اسناد اور انعامات کی تقسیم تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس نے تعلیم کی اہمیت، نوجوان نسل کی صلاحیتوں، اساتذہ کرام کی خدمات اور ضلع خوشاب کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیغام دیا۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک منصور عثمان اعوان کی جانب سے خوشاب یونیورسٹی کے قیام، جدید تعلیم کے فروغ اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کے عزم نے عوامی توقعات کو نئی تقویت دی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان، اس کا علم، اس کے تعلیمی ادارے اور اس کے کردار کی مضبوطی ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، فنی مہارتوں اور مثبت تربیت سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان ترقی، خوشحالی اور خودمختاری کی نئی منزلیں حاصل کرسکتا ہے۔
آئیے! تعلیم کو قومی ترجیح بنائیں، اساتذہ کرام کا احترام کریں، ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں اور ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر بچے کو علم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ یہی روشن مستقبل کی ضمانت اور قومی تعمیر و ترقی کا حقیقی راستہ ہے۔

