سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اب تک یورپی شہریوں کو 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی ہے اور اس کے معاشی اثرات عام لوگوں پر بھاری پڑ رہے ہیں۔
ایکس پر ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’جنگ کی مخالفت کرنے والے یورپی رہنما درست تھے اور انھوں نے جنگ کو ’نہ‘ کہہ کر صحیح فیصلہ کیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ بالآخر اس جنگ کی قیمت عام لوگوں کو چکانا پڑے گی۔
Los que alzamos la voz contra la guerra teníamos razón cuando dijimos NO a la guerra.
La guerra de Irán ya nos ha costado más de 100.000 millones de euros a los europeos. Sabíamos que la factura la iba a terminar pagando la gente de a pie.
Por eso, hoy hemos convalidado en el Congreso un escudo social de más de 12.000 millones para proteger a los ciudadanos y a los sectores afectados.
Ahora, toca poner fin a este desastre.
— Pedro Sánchez (@sanchezcastejon) October 16, 2026
سانچیز نے جمعے کو برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ’جنگ کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔‘ ان کے مطابق اس کی تصدیق نہ صرف بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے احترام کے تناظر میں ہوئی ہے بلکہ جنگ کے ان معاشی اور سماجی اثرات سے بھی ہوتی ہے جن کا شہری ایک بار پھر سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’سپین کی پارلیمان نے 12 ارب یورو سے زیادہ کے امدادی پیکج کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد متاثرہ شعبوں اور اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کی مدد کرنا ہے۔‘
ہسپانوی وزیراعظم نے زور دیا کہ اب سب سے اہم بات اس تباہی کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔

