ریاض :سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک مسجد کے اندر مبینہ فحاشی کے الزام میں گرفتار ایک بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے وزارت داخلہ کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بنگلہ دیشی مرد نذر الاسلام عبدالبصیر اور خاتون سیتی اختر پر الزام تھا کہ انھوں نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’فحش فعل کا ارتکاب کیا۔‘
سعودی حکام کے مطابق سکیورٹی حکام نے دونوں کو گرفتار کیا اور انھیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
سعودی وزارت داخلہ نے مزید بتایا کہ عدالت نے نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کے خلاف فیصلہ جاری کیا جس میں ’اُن پر عائد الزامات کی توثیق کی گئی۔‘
وزارت نے کہا کہ عدالت نے جرم کی سنگینی، مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور اُن حالات کے باعث یہ سزائیں سنائیں جن میں یہ افعال کیے گئے تھے۔ اس پس منظر میں سعودی حکام نے اس جوڑے کو ’تعزیر کے تحت سزائے موت سنائی۔‘
سعودی حکام نے بتایا کہ سزائے موت کے ابتدائی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل پر بھی اعلی عدالت کی جانب سے فیصلہ برقرار رکھا گیا اور اس کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے شاہی حکم جاری کیا گیا۔ اس شاہی حکم نامے پر بدھ (14 اکتوبر) کے روز عملدرآمد کیا گیا۔
سعودی حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مبینہ فحاشی کی نوعیت کیا تھی، یہ واقعہ کب پیش آیا تھا، عدالت کی جانب سے سزائے موت کب سُنائی گئی تھی اور اس کے خلاف اپیل کب مسترد کی گئی تھی۔(سورس بی بی سی اردو)

