لاہور: انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) پنجاب عبدالکریم کی زیرِ صدارت سینٹرل پولیس آفس لاہور میں انوسٹی گیشن امور سے متعلق ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "محفوظ پنجاب” ویژن کے تحت صوبے بھر میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم، زیادتی، تشدد، قتل اور اغوا جیسے سنگین مقدمات کی تفتیش اور پراسیکیوشن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آئی جی پنجاب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ "خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی و تشدد ہماری ریڈ لائن ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔”
اجلاس کے دوران آئی جی پنجاب نے تمام علاقائی پولیس افسران (RPOs) اور ضلع پولیس افسران (DPOs) کو تفتیش و چالاننگ کے نظام کو مزید جامع اور شفاف بنانے کے لیے درج ذیل احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ
سنگین مقدمات کی تفتیش کو بلا تاخیر منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے چالان بروقت عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔
جبکہ ملزمان کو کیفِرِ کردار تک پہنچانے اور سزائیں یقینی بنانے کے لیے محکمۂ پراسیکیوشن کے ساتھ مضبوط اور مؤثر رابطہ قائم رکھا جائے۔
آئی جی پنجاب نے صوبے کے تمام اضلاع کو حتمی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انوسٹی گیشن اور چالاننگ سے متعلق تمام تر ریکارڈ 15 نومبر تک ‘پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم’ (PRMS) پر لازمی اپ ڈیٹ کیا جائے۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے پولیس فورس کی اندرونی جواب دہی کے نظام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس میں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز اور سخت ترین احتسابی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کو وزیرِ اعلیٰ کے ویژن کے مطابق عوام دوست، انصاف فراہم کرنے والی اور مجرموں کے لیے خوف کی علامت فورس بنایا جا رہا ہے۔
"خواتین و بچوں پر تشدد ریڈ لائن!”: آئی جی پنجاب عبدالکریم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، تمام RPOs اور DPOs کو سخت ہدایات جاری!

