اسلام آباد: پاکستان کے معروف سیاست دان فیصل واوڈا کی حالیہ پریس کانفرنس نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں ملک کے سیاسی نظام کو ’ری بُوٹ‘ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس کے بعد اس اصطلاح اور ان کے اس اشارے کے مختلف معنی نکالے جا رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کہانی کے اندر وہ ’ری بُوٹ‘ کے آپشن کو دیکھ رہے ہیں، جس کی تشریح انہوں نے موبائل فون کے بند ہو کر دوبارہ آن ہونے سے کی۔ب
جب ان سے اس اصطلاح اور فوجی کردار سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی مراد وہ والا بُوٹ نہیں ہے، تاہم انہوں نے پاک فوج کو ملک کا محافظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج کو عزت دینے سے ہی پاکستان کا مقام بلند ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس ’ری بُوٹ‘ کے عمل میں ’ہم‘ سے ان کی مراد کون لوگ یا ادارے ہیں۔
صحافیوں اور سیاسی مبصرین کے ردعملاس پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی مبصرین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ بیان ملک کے موجودہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی یا اصلاحات کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ حلقے اسے محض سیاسی بیان بازی قرار دے رہے ہیں۔صحافیوں کی طرف سے جب ان کے بیانات کے محرکات پر سوالات اٹھائے گئے تو سیاسی گلیاروں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کون سا نیا رخ اختیار کرے گی۔
فیصل واوڈا کا” بوٹ اور ری بُوٹ”: کیا پاکستان کی سیاست میں کسی بڑے نظام کی تبدیلی کا عندیہ ہے؟

