اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر 20 ہزار سے زائد شدت پسند موجود ہیں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 ہزار سے زائد جنگجو بھی شامل ہیں جو وہاں محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر منعقدہ ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور سفارتی فورمز پر مسلسل افغان حکومت سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شدت پسند افغان سر زمین پر محفوظ ٹھکانوں میں موجود ہیں اور وہاں مختلف عسکری نوعیت کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں خوش آئند تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے لڑی جائے گی، دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، خیبر پختونخوا کے لوگ صوبے سے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، افغانستان میں 20 ہزار سے زائد دہشت گرد موجود ہیں، ٹی ٹی پی کے چھ ہزار سے زائد دہشت گرد پناہ لئے ہوئے ہیں، دہشت گرد افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جو افغان سرزمین پر ہر قسم کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، پاکستان افغانستان میں انتہاء پسندی اور شدت پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے۔
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 12, 2026
واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی متعدد بار یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے عناصر افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں اور ان کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ دوسری جانب، افغانستان میں طالبان حکومت ان الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتی چلی آئی ہے اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان اس وقت شدت پسندی کے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے لیکن ملک نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
ریاستی ادارے اور غیور عوام اس خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت پرعزم ہیں۔
وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے محض اپنی سلامتی تک محدود نہیں رکھا بلکہ علاقائی امن کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، اور پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری اور مثبت سفارتی کردار جاری رکھے گا۔

