ٹینیسی :امریکی ریاست ٹینیسی کی جیل میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت پر عملدرآمد کی دو ناکام کوششوں سے بچ جانے والی کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو بتایا کہ واقعے کے چھ روز بعد اسے ہوش آ گیا ہے اور وہ بات کرنے کے قابل ہے۔
یہ واقعہ سزائے موت پر عملدرآمد میں ایک غیر معمولی ناکامی کے طور پر سامنے آیا ہے۔وکلا نے ایک بیان میں کہا:تمام توقعات کے برخلاف کرسٹا پائیک ہوش میں ہے، بات کر سکتی ہے اور اسے انتہائی اہم طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔
50 سالہ کرسٹا پائیک کو بدھ کی شب دو مہلک انجیکشن لگائے گئے تھے، جن میں پینٹوباربیٹل نامی دوا کی دو خوراکیں شامل تھیں۔
وہ جنوبی ریاست ٹینیسی میں 200 سے زائد برس بعد سزائے موت پانے والی پہلی خاتون بننے والی تھیں، تاہم دونوں کوششیں ناکام ہوگئیں۔اس کے بعد سے وہ تشویشناک حالت میں تھی اور مصنوعی تنفس کے ذریعے زندہ رکھی گئی تھی۔ اس کے وکلا کے مطابق انہیں اسپتال میں اس سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔
وکلا نے بیان میں مزید کہا:ہم ٹینیسی کے گورنر سے ایک بار پھر مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کی سزا کو بغیر پیرول کے عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
وکلا نے یاد دلایا کہ کرسٹا پائیک نے بچپن ہی سے خوفناک تشدد، بالخصوص جنسی تشدد، کا سامنا کیا اور سزائے موت کے قیدیوں کے وارڈ میں تقریباً 30 سال قید تنہائی میں گزارے ہیں۔
کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی۔کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کی بدھ کی شب ناکام کوشش نے امریکہ میں ایک بار پھر سزائے موت کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے جمعرات کو ریاست میں سزائے موت پر عملدرآمد عارضی طور پر روکنے اور پائیک کی سزائے موت کی ناکامی کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ہفتے کے روز انہوں نے ریاستی محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ کا استعفیٰ منظور کر لیا۔
زندہ معجزہ :دوزہریلے انجکشن لگنے کے باوجود سزائے موت پانے والی خاتون کو ہوش آگیا

