ناگویا / نئی دہلی:جاپان میں جاری ایشین گیمز کے دوران بھارتی کھیل کے دستے کے لیے ایک انتہائی شرمناک صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں بھارت کے ہاکی امپائر اور ٹیکنیکل آفیشل گرندر سنگھ سنگھا کو جنسی ہراسانی کی متعدد شکایات کے بعد ایونٹ سے فوری طور پر فارغ کر کے واپس بھارت بھیج دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’پی ٹی آئی‘ کے مطابق ہاکی انڈیا کے ایک باخبر عہدیدار نے ناگویا سے تصدیق کی ہے کہ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہاکی آفیشل اور ہوٹل کے ایک مقامی ملازم کی جانب سے سنگھا پر جنسی بدسلوکی اور ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے وہ دو روز قبل ہی بھارت روانہ ہو چکے ہیں۔
ہاکی انڈیا کے عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایشین ہاکی فیڈریشن (AHF) کی تفصیلی رپورٹ موصول ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور اگر وہ قصوروار ثابت ہوئے تو ان کے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گرندر سنگھ سنگھا کے خلاف اس نوعیت کی شکایات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل سال 2025 میں رانچی میں ہونے والی ہاکی انڈیا لیگ کے دوران بھی ایک خاتون امپائر نے ان کے خلاف ایسی ہی شکایت درج کروائی تھی، جس پر بنائی گئی انکوائری کمیٹی کو اس وقت مبینہ طور پر کوئی حتمی اور ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا تھا۔
دوسری جانب، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (IOA) کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ اس موجودہ واقعے کا براہِ راست تعلق آئی او اے یا ہاکی انڈیا سے نہیں ہے کیونکہ ایشین گیمز کے لیے تمام امپائرز اور ٹیکنیکل آفیشلز کا تقرر براہِ راست ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھارتی اسپورٹس حلقوں کی پوزیشن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ایشین گیمز میں بھارت کے لیے شرمناک اسکینڈل: سنگین الزامات پر انڈین ہاکی امپائر جاپان بدر

