انقرہ :جنوبی ایشیا میں لوگوں کو مسجد تک لانے کی ذمہ داری عموماً بزرگوں کے حصے میں آتی ہے۔ کہیں کوئی دادا اپنے پوتوں کو نماز کے لیے آوازیں دے رہا ہوتا ہے، کہیں محلے کا کوئی بزرگ نوجوانوں کو مسجد کی طرف بلاتا ہے، اور کہیں تبلیغی جماعت کے ارکان دروازوں پر دستک دے کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیتے ہیں۔لیکن ترکیہ کے بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع ایک چھوٹے سے شہر اماسرا میں یہ ذمہ داری بظاہر ایک کتے نے سنبھال رکھی ہے۔
اس کا نام کِرپِک ہے۔وہ وعظ کرتا ہے نہ دروازے پر دستک دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی کو نماز کی تلقین بھی نہیں کر سکتا ہے۔ اس نے لوگوں کو مسجدمیں لانے کا اپنا ہی طریقہ ایجاد کیا ہے۔وہ ان کے جوتے چرا لیتا ہے۔
اماسرا کے قدیم قلعے کے اندر کالیچی محلہ کی تنگ گلیوں میں اور اس چھوٹے سے قصبہ کے دیگر محلوں میں کِرپِک گھومتا رہتا ہے۔ یہاں کے لوگ بھی کشمیریوں کی طرح گھروں میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتارنے کے عادی ہیں۔ چپل، سینڈل اور جوتے دروازوں کے باہر پڑے رہتے ہیں، اور کِرپِک کے لیے شاید اس سے بہتر دعوت کوئی نہیں ہے۔
وہ کسی گھر کے باہر سے ایک جوتا یا چپل منہ میں دباتا ہے اور چل پڑتا ہے۔ اس کا پڑاؤ اکثر تاریخی فاتح مسجد کے باہر ہوتا ہے۔شروع میں قصبہ کے رہائشی حیران تھے کہ آخر جوتے غائب کہاں ہو رہے ہیں۔ پھر چور پکڑا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ ایک مقامی شخص، جو مسجد کے آس پاس صفائی کرنے پر مامور تھا، نے جب بار بار جوتے پڑے دیکھے تو حیران و پریشان ہو گیا تھا۔ جوتو ں کا ایک انبار سا لگ گیا تھا۔ چند رو ز میں اس کو اصل ماجرا سمجھ آگیا، جب اس نے کتے کو جوتا لاتے ہوئے دیکھا۔ اس نے جوتوں کو پھینکنے کے بجائے قریب ایک درخت سے باندھنا شروع کر دیا تاکہ مالک آ کر اس کی پہچان کر سکیں۔
کِرپِک اب شہر کے لیے اجنبی نہیں رہا ہے۔ لوگ اس کے لیے کھانا لاتے ہیں اور مسجد کے قریب اس کے لیے ایک چھوٹی سی پناہ گاہ بھی بنا دی گئی ہے۔مسجد کی انتظامیہ بھی اس کا خیال رکھتی ہے۔ چور بہت دیکھے، مگر ایسا چور، جس کی ایسی پذیرائی ہوتی ہو، شاید ہی کہیں ملے۔


