واشنگٹن:امریکا اور چین کے درمیان تناؤ اور شک کے بادلوں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز (Joint Base Andrews) پر پرتپاک استقبال کیا۔ چینی صدر اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے ہیں، جہاں دونوں سپر پاورز کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور ایران کے تنازعات سمیت متعدد اہم موضوعات پر مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ 11 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے کسی غیر ملکی رہنما کا فوجی اڈے پر ذاتی طور پر استقبال کیا ہو، جس سے اس دورے کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔
استقبالیہ تقریب کے دوران دونوں رہنماؤں اور ان کی اہلیہ نے ہاتھ ملایا، فوجی بینڈ کی دھنوں، توپوں کی سلامی اور فضا میں بی-1 (B-1) بمبار طیاروں کے فلائی اوور کے دوران تصاویر بنوائیں۔ اس دورے کا ایک اہم ترین مقصد دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان 11 ماہ پرانی تجارتی جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت یہ جنگ بندی اب 10 جنوری تک نافذ رہے گی (جو پہلے 10 نومبر کو ختم ہونا تھی)۔ اس مثبت پیشرفت سے 2025 کی ٹیرف جنگ سے ہلکی پڑنے والی عالمی مارکیٹوں کو کچھ سکھ کا سانس ملنے کی توقع ہے۔
اگرچہ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات عالمی منڈیوں کے لیے خوش آئند ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تائیوان پر چینی دعوے، نایاب زمین کے معدنیات اور کمپیوٹر چپس پر برآمدی پابندیوں اور چین کے ایران کے ساتھ تعلقات جیسے بنیادی امور پر شدید اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ طویل جنگ کے باعث گرتی ہوئی مقبولیت اور مہنگائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ صدر شی جن پنگ نسبتاً مضبوط معاشی پوزیشن کے ساتھ واشنگٹن پہنچے ہیں، حالانکہ انہیں بھی گھریلو سطح پر کمزور صارفین کے اخراجات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ملاکرات کے دوران اس بات کا قوی امکان ہے کہ جمعرات کو ہونے والی باضابطہ نشستوں میں مخصوص شعبوں میں ٹیرف کم کرنے، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون اور عسکری سطح پر بات چیت کو آگے بڑھانے پر معاہدے طے پائیں۔ اس کے علاوہ، دنیا کو ہلا دینے والی مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں ضابطے اور باہمی تعاون پر بھی مزید بات چیت متوقع ہے۔
دورے کے دوران جمعرات کی شام ایک خصوصی اور شاندار ’اسٹیٹ ڈنر‘ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں ایپل کے ٹم کک، اینڈیا کے جینسن ہانگ اور اوپن اے آئی کے سام ألٹمن سمیت دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سرکردہ نام شرکت کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سربراہی اجلاس کا بنیادی مقصد دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری (چین) اور سب سے بڑی مارکیٹ (امریکا) کے درمیان باضابطہ استحکام کا تاثر دینا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر کسی مشترکہ پریس کانفرنس یا اعلامیے کے بجائے دونوں ممالک کی جانب سے الگ الگ بیانات جاری کیے جانے کا امکان ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے شہریوں کو اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پہنچا سکیں۔

