تہران:خطے میں کشیدگی ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان حسین محبی نے امریکہ کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر کوئی نیا حملہ کیا تو تہران اپنے "ایسے خفیہ اور جدید ترین ہتھیار” میدانِ جنگ میں اتار دے گا جو پوری دنیا کو حیران کر کے رکھ دیں گے۔
ایک اعلیٰ سطحی بیان میں ترجمان نے واضح کیا کہ ایران نے جنگ کے اس جاری مرحلے میں اب تک اپنے تمام تر دفاعی پتے استعمال نہیں کیے، اور کئی ’اسٹریٹجیک ہتھیاروں‘ کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "اگر ضرورت پڑی تو ہم جنگ کا جغرافیہ مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے اور ایسے تمام علاقوں کو نشانہ بنائیں گے جو اب تک جنگ کی زد میں نہیں آئے، اور دنیا دیکھی گی کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔”
جنگ کا دائرہ وسیع ہونے اور طویل المدتی تیاریوں کا انکشاف
حسین محبی کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تنازع پہلے ہی علاقائی شکل اختیار کر چکا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کا خطہ اتنا وسیع ہے کہ اس جنگ کے جغرافیائی پھیلاؤ اور وسعت کی گنجائش ابھی باقی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایرانی عسکری ادارے کسی بھی طویل مدتی جنگ کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب، ایران کے اعلیٰ ترین عسکری کمانڈ ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ نے بھی ایک انتہائی اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے کسی یورپی ملک میں بعض علاقائی حکومتوں کی پشت پناہی اور "گرین سگنل” ملنے کے بعد ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ تہران دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
"نیا حملہ ہوا تو ایسے جدید ہتھیار استعمال کریں گے جو دنیا کو ہلا کر رکھ دیں گے”، ایران کا جنگ کا نقشہ بدلنے کا اعلان

