آسٹن، ٹیکساس:امریکی ریاست ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک افسر کی فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی ہو گیا ہے، جس کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور جائے وقوعہ پر درجنوں افراد نے جمع ہو کر شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔
آسٹن پولیس کی سربراہ لیسا ڈیوس (Lisa Davis) نے میئر اور دیگر شہر کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کی دوپہر شہر کے شمالی حصے میں ٹریفک روکنے کے دوران پیش آنے والے واقعے میں ایک شخص کو سینے میں گولی لگی، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک لیکن مستحکم بتائی جاتی ہے۔ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ اس کارروائی یا فائرنگ میں آسٹن کے مقامی پولیس اہلکار شامل نہیں تھے۔
واقعے کے بعد آسٹن کے ڈیموکریٹک میئر کرک واٹسن (Kirk Watson) نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے باسیوں کو اپنے شہر میں محفوظ محسوس کرنے کا حق حاصل ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس فائرنگ کی تحقیقات وفاقی ادارے کے بجائے مقامی پولیس کرے تاکہ ایک واضح اور غیر جانبدارانہ (Third-party) جائزہ سامنے آ سکے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ملوث وفاقی ایجنٹ شہر یا ریاست چھوڑ کر نہ چلا جائے۔
فائرنگ کے مقام پر ایک گہرے نیلے رنگ کی ٹیوٹا کرولا گاڑی کھڑی تھی جس کے دروازے پر گولیوں کے نشانات صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر تقریباً ایک سو مظاہرین جمع ہو گئے جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر غصہ نکالا جبکہ ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر "کوئی بھی محفوظ نہیں” درج تھا۔ مقامی قانون سازوں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آسٹن میں آئی سی ای (ICE) کی جارحانہ کارروائیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملک بھر میں آئی سی ای کی کارروائیوں اور فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ملک بھر میں آئی سی ای کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور جولائی و اگست کے دوران گرفتاریوں کی تعداد تاریخ میں پہلی بار ماہانہ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی تاریخ میں فیڈرل ایجنٹس کی فائرنگ کے کئی متنازع واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ جولائی میں ہی ہیوسٹن میں ایک آئی سی ای افسر نے 52 سالہ لورینزو سلگاڈو کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنے تعمیراتی عملے کو لے کر جا رہا تھا، جبکہ مینیسوٹا اور مین (Maine) ریاستوں میں بھی فیڈرل افسران کی فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکتوں کے پے در پے واقعات پر عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

