پشاور (انور زیب خان )
صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے صوبے بھر میں ستمبر کے انسدادِ پولیو راؤنڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، علماء، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو مربوط انداز میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ستمبر کی انسدادِ پولیو مہم صوبے کے تمام اضلاع میں چلائی جائے گی۔ صوبے کے بیشتر اضلاع میں مہم 21 سے 24 ستمبر 2026ء تک جبکہ پشاور اور خیبر میں 21 سے 27 ستمبر 2026ء تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 73 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے تقریباً 65 لاکھ گھرانوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
مہم کی کامیابی اور سیکیورٹی کے لیے درج ذیل انتظامات کیے گئے ہیں:
-
ٹیمیں اور عملہ: تقریباً 35 ہزار پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ایریا انچارجز اور یونین کونسل میڈیکل افسران سمیت 75 ہزار سے زائد اہلکار خدمات انجام دیں گے۔
-
سیکیورٹی: پولیو ٹیموں کی حفاظت اور مہم کے پرامن انعقاد کے لیے تقریباً 50 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے۔
صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ حکومت خیبر پختونخوا صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، بنیادی مراکزِ صحت کو مضبوط کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مربوط بنایا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو پولیو سمیت تمام متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ مہم کے دوران اپنے 5 سال تک کے ہر بچے کو قطرے لازمی پلوائیں۔
بریفنگ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سال 2025ء کے دوران پولیو کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026ء میں اب تک 3 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں دو کا تعلق بنوں اور ایک کا شمالی وزیرستان سے ہے۔
افتتاحی تقریب میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ، کوآرڈینیٹر ای او سی شفیع اللہ خان، پارٹنر اداروں کے نمائندگان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے صوبے کو پولیو سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔



