تحریر:انور زیب خان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کوھاٹ پولیس لائن دھماکے کے بعد شہید ہونے والے پولیس افسر (ایس پی) والد کی قبر پر ان کے کمسن بچے کی سلوٹ کرتی تصویر نے ہر صاحبِ دل انسان کو غمزدہ اور آبدیدہ کر دیا ہے۔ یہ دردناک اور جذباتی منظر جہاں ایک طرف وطن کے دفاع میں دی جانے والی لازوال قربانی کی داستان بیان کر رہا ہے، وہیں کئی سنجیدہ سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے۔
اس المناک واقعے اور منظر نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر کب تک خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکار یوں نشانہ بنتے اور شہید ہوتے رہیں گے؟ صوبہ خیبرپختونخوا کی پولیس مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود سیاسی و حکومتی سطح پر خیبرپختونخوا کی پولیس اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ امتیاز اور عدم توجہ کا گلہ موجود ہے۔
ذرائع اور مقامی حلقوں کے مطابق یہ شکایت عام ہے کہ سہرے اور میڈل دیگر صوبے لے جاتے ہیں جبکہ اصل میدانِ جنگ اور قربانیاں خیبرپختونخوا پولیس کے حصے میں آتی ہیں۔ اس وقت خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور پولیس فورس کی مراعات و وسائل کے معاملے میں ہر قسم کے امتیاز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
پختون قوم دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسند اور ملک کے دفاع کے لیے سب سے آگے بڑھ کر قربانیاں دینے والی قوم ہے۔ حکمرانوں اور پالیسی سازوں سے التماس ہے کہ خدارا خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے اور شہداء کے لواحقین کو ان کا پورا حق فراہم کیا جائے۔
پاکستان زندہ باد، خیبرپختونخوا پولیس پائندہ باد!


