واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) پر وائٹ ہاؤس کے دروازے بند کرنے کے بعد امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں طوفان برپا ہو گیا ہے۔ اس سنسنی خیز تنازعے کے درمیان ٹرمپ کی سابق وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری سٹیفنی گریشم (Stephanie Grisham) نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی انہیں بالکل بھی حیران کن نہیں لگی، کیونکہ اپنی پہلی مدتِ صدارت میں بھی ٹرمپ تمام پریس کورپس کو وائٹ ہاؤس کے احاطے سے باہر نکالنے کی شدید خواہش رکھتے تھے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ جگہیں تلاش کرنے کا کہتے تھے۔
سٹیفنی گریشم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں مزید کہا کہ اس وقت ٹرمپ کے اردگرد چاپلوسوں کا ٹولہ جمع ہے اور وہ تمام حفاظتی رکاوٹیں (Guardrails) ختم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی اور بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہیں، لیکن صدر اپنی انا کی تسکین کے لیے ایسے احمقانہ اقدامات کر رہے ہیں، جو ان کے زمینی حقائق سے لاتعلقی کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی مشیر پیٹر ناوارو (Peter Navarro) نے اس فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے میڈیا اداروں کی کوریج کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ اسٹیو بینن کے پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ناوارو نے دعویٰ کیا کہ معیشت، ٹیرف اور ایران کی جنگ کے بارے میں منفی خبریں پھیلانے والے ادارے "غدار” (Treasonous) ہیں، کیونکہ ان کی خبریں ایران جیسے ممالک کے میڈیا کی شہ سرخیاں بنتی ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس اقدام کا موازنہ امریکی خانہ جنگی کے دوران صدر ابراہم لنکن کے فیصلوں سے بھی کر ڈالا۔
ہفتے کی صبح جب ان تینوں اداروں (CNN, MS NOW, Politico) کے صحافی وائٹ ہاؤس پہنچے تو ان کے پریس بیجز غیر فعال (Deactivate) پائے گئے اور انہیں اندر داخلے سے سختی سے روک دیا گیا۔
اس تذلیل کے بعد تینوں میڈیا ہاؤسز نے سخت ترین بیانات جاری کیے ہیں:
پولیٹیکو کے ایڈیٹر اِن چیف جوناتھن گرینبرگر نے کہا ہے کہ وہ پہلی آئینی ترمیم (First Amendment) کے تحت اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کریں گے۔
سی این این نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ حکومت اور طاقتور اداروں کا محاسبہ کرنے کی اپنی ذمہ داری سے ایک انچ بھی پچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایم ایس ناؤ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمہوریت میں آزاد صحافت کے دفاع کے لیے ہر ممکن قانونی قدم اٹھائیں گے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ اب ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو بھی بلیک لسٹ کرنے کے اشارے دے چکے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور آزاد میڈیا کے درمیان یہ محاذ آرائی اب ایک خطرناک ترین موڑ پر داخل ہو چکی ہے۔
”صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی توازن کھو بیٹھے : سابق پریس سیکرٹری “، پیٹر ناوارو کا میڈیا کے خلاف ’غداری‘ کا الزام، متاثرہ اداروں کا آئینی جنگ کا اعلان

