Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

      مصنوعی ذہانت کا استعمال: امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی

      گیمنگ کی دنیا میں طوفان: ’جی ٹی اے 6‘ کے خصوصی ڈوئل سینس کنٹرولر کی رونمائی، قیمت اور لانچ کی تاریخ سامنے آ گئی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈرون: آسمان کی وہ آنکھ جس نے جنگ اور زندگی بدل دی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    جنگ کے میدان سے پارسل کی ترسیل تک، ڈرون خاموشی سے ہماری دنیا بدل رہے ہیں

    تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد  جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    آسمان پر ایک چھوٹی سی مشین منڈلا رہی ہے۔ اس میں کوئی پائلٹ موجود نہیں، لیکن زمین پر کئی کلومیٹر دور بیٹھا ایک شخص اس کے کیمرے سے ہر منظر دیکھ رہا ہے۔
    یہ ڈرون کی دنیا ہے۔
    کبھی ڈرون کا نام آتا تھا تو ذہن میں صرف فوجی نگرانی یا جنگ کا تصور آتا تھا۔ آج صورتحال بدل چکی ہے۔ ڈرون صحافت، زراعت، فوٹوگرافی، ریسکیو، مواصلات، نگرانی اور حتیٰ کہ پارسل اور ادویات پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
    سادہ الفاظ میں ڈرون ایک ایسا بغیر پائلٹ کا ہوائی جہاز ہے جسے زمین سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا جو بعض کام خودکار طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ کچھ ڈرون اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ایک بیگ میں سما جائیں، جبکہ جدید فوجی ڈرون سینکڑوں بلکہ ہزاروں کلومیٹر تک پرواز کر سکتے ہیں۔
    اصل تبدیلی یہ ہے کہ پائلٹ ختم نہیں ہوا، صرف کاک پٹ سے نکل کر زمین پر آ گیا ہے۔
    آسمان کی آنکھ
    عام آدمی نے شاید ڈرون کو سب سے زیادہ کیمرے کے ساتھ دیکھا ہے۔
    ایک ڈرون کسی سیاسی جلسے، کھیلوں کے مقابلے، جلوس یا بڑے اجتماع کے اوپر جا کر ایسا منظر دکھا سکتا ہے جو پہلے حاصل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کی ضرورت پڑتی تھی۔
    صحافت میں اس نے منظرنامہ بدل دیا ہے۔
    زمین پر کھڑا کیمرہ صرف اپنے سامنے کا منظر دکھاتا ہے، لیکن ڈرون اوپر سے پورے اجتماع، سڑکوں، ٹریفک اور لوگوں کی نقل و حرکت کا منظر پیش کر سکتا ہے۔
    ریسکیو کے لیے بھی یہ ایک انتہائی مفید آنکھ بن سکتا ہے۔ سیلاب، آگ، عمارت گرنے یا کسی بڑے حادثے کے بعد ڈرون مشکل اور خطرناک علاقوں کی فضائی نگرانی کر سکتا ہے۔
    لیکن ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح یہاں بھی ایک سوال موجود ہے:
    مدد کے لیے کی جانے والی نگرانی کہاں ختم ہوتی ہے اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
    ڈرون کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے دنیا بھر میں پرائیویسی اور فضائی تحفظ کے بارے میں نئی بحث پیدا کر دی ہے۔
    اب پارسل بھی آسمان سے آئے گا؟
    ڈرون اب صرف کیمرہ نہیں اٹھا رہے، سامان بھی اٹھا رہے ہیں۔
    دنیا میں مختلف کمپنیاں ایسے ڈرون تیار کر رہی ہیں جو ادویات، ہنگامی سامان اور پارسل ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا سکتے ہیں۔
    سوچیے، کسی سیلاب میں سڑک ٹوٹ گئی ہے یا پہاڑی علاقے میں زمینی راستہ بند ہے۔ ایسے میں ایک ڈرون نسبتاً کم وقت میں دوا یا ضروری سامان وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں گاڑی کا پہنچنا مشکل ہو۔
    پاکستان جیسے ملک میں اس ٹیکنالوجی کے امکانات خاصے وسیع ہیں۔
    پہاڑی علاقے، دور دراز آبادیاں، سیلاب اور بڑے شہروں کا شدید ٹریفک—یہ سب ایسے مسائل ہیں جہاں مستقبل میں ڈرون روایتی ترسیلی نظام کا مددگار بن سکتے ہیں۔
    تصور کیجیے کہ کسی دور افتادہ مرکزِ صحت میں فوری دوا درکار ہے اور سڑک کا سفر کئی گھنٹوں کا ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ وہ دوا سڑک کے بجائے آسمان کے راستے پہنچ جائے۔
    لیکن سب سے بڑی تبدیلی جنگ میں آئی
    ڈرون نے جنگ کے میدان کو سب سے زیادہ تبدیل کیا ہے۔
    یوکرین کی جنگ نے دنیا کو دکھایا کہ چھوٹے ڈرون کس طرح فوجیوں اور توپ خانے کی آنکھ بن سکتے ہیں۔
    وہ دشمن کی پوزیشن دیکھ سکتے ہیں، فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کر سکتے ہیں، آلات اور گاڑیوں کا سراغ لگا سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں ہتھیار بھی لے جا سکتے ہیں۔
    ان میں FPV یعنی First-Person View ڈرونز خاص طور پر اہم ہو گئے ہیں۔ ان کے کیمرے سے آپریٹر کو ایسا منظر ملتا ہے جیسے وہ خود ڈرون میں بیٹھا ہوا ہو۔
    یہاں جنگ کا ایک بنیادی اصول بدل گیا ہے۔
    پہلے دشمن کو تلاش کرنے کے لیے بڑے اور مہنگے فضائی نظام درکار ہوتے تھے۔ اب نسبتاً چھوٹا اور کم قیمت ڈرون بھی میدانِ جنگ کی نگرانی کر سکتا ہے۔
    اس لیے ڈرون کی اصل طاقت صرف حملہ کرنا نہیں۔
    اس کی اصل طاقت ہے:
    دیکھنا، شناخت کرنا اور معلومات فوراً پہنچانا۔
    اور جنگ میں چند سیکنڈ بھی کبھی کبھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
    روس نے ڈرون کو باقاعدہ فوجی قوت بنا دیا
    روس کا طرزِ عمل اس تبدیلی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
    2026 میں روس نے Unmanned Systems Forces یعنی بغیر پائلٹ نظام کی باقاعدہ فوجی شاخ قائم کی۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید جنگ میں ڈرون اب محض ایک اضافی فوجی آلہ نہیں رہے۔
    روس نے Rubicon Center for Advanced Unmanned Technologies جیسے خصوصی ادارے بھی قائم کیے ہیں، جہاں ڈرون آپریشنز، تربیت، ٹیکنالوجی اور ڈرون شکن نظام پر کام کیا جاتا ہے۔
    یوکرین نے بھی جنگ میں ڈرونز کو بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں دونوں فریق مسلسل نئے ڈرون، نئے سینسر اور ڈرون روکنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں۔
    یوں جدید جنگ اب صرف ٹینک، توپ اور طیارے کی جنگ نہیں رہی۔
    یہ ڈرون، سینسر، سافٹ ویئر، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت کی بھی جنگ بن چکی ہے۔
    پاکستان کے لیے بھی یہ دور اہم ہے
    پاکستان بھی اس تبدیلی سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔
    مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی کے دوران بڑے پیمانے پر ڈرونز کا استعمال اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ بغیر پائلٹ نظام اب جنوبی ایشیا کی سکیورٹی حقیقت کا حصہ بن چکے ہیں۔
    پاکستان میں بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے دفاعی اور شہری استعمال پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ وزارتِ دفاعی پیداوار نے نجی شعبے کے ساتھ مل کر مقامی ڈرون ٹیکنالوجی اور Unmanned Systems کی صنعت کو فروغ دینے کی کوششوں کا اظہار کیا ہے۔
    لیکن پاکستان کے لیے ڈرون کا مستقبل صرف دفاع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
    زراعت، صحافت، تعمیرات، سروے، ریسکیو، بجلی کی تنصیبات، سیلاب کی نگرانی اور سامان کی ترسیل—بے شمار شعبے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
    اصل انقلاب ابھی شروع ہوا ہے
    ڈرون کی کہانی صرف ایک اڑنے والی مشین کی کہانی نہیں۔
    یہ دراصل آنکھ، کیمرہ، سینسر، کمپیوٹر اور مواصلات کو آسمان میں لے جانے کی کہانی ہے۔
    مستقبل کے ڈرون مصنوعی ذہانت کی مدد سے راستہ تلاش کر سکیں گے، اشیا کی شناخت کر سکیں گے اور محدود انسانی مداخلت کے ساتھ مختلف کام انجام دے سکیں گے۔
    لیکن اس مستقبل کے ساتھ بڑے سوالات بھی جڑے ہیں۔
    ڈرون کو کتنی آزادی دی جائے؟
    اگر خودکار نظام کوئی غلط فیصلہ کرے تو ذمہ دار کون ہوگا؟
    عام شہریوں کی پرائیویسی کیسے محفوظ ہوگی؟
    اور شہروں، ہوائی اڈوں، ہسپتالوں اور بڑے اجتماعات کو غیر مجاز ڈرونز سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا؟
    یہ سوالات اب سائنس فکشن نہیں رہے۔ یہ ہماری موجودہ دنیا کے سوالات ہیں۔
    پاکستان کے عام شہری کے لیے ڈرون کو سمجھنا اب صرف ایک نئی مشین کو سمجھنا نہیں۔
    ہمارے سروں کے اوپر خاموشی سے اڑنے والی یہ چھوٹی سی مشین شاید ایک بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
    وہ وقت آ رہا ہے جب آسمان صرف پرندوں اور ہوائی جہازوں کا نہیں ہوگا—بلکہ کام کی جگہ، مواصلات کا راستہ، پارسل کی گزرگاہ، معلومات کا ذریعہ اور جنگ کا میدان بھی ہوگا۔

    Related Posts

    پروفیسر ملک احمد شیر کھارا — علم و تدریس کا روشن استعارہ

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    مقبول خبریں

    میرا بیٹا روسی ارب پتی کی جانب سے کی گئی شادی کے اخراجات کی رقم واپس کر دے گا، صدر ٹرمپ

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کریک ڈاؤن، 23 دہشت گرد گرفتار، ساہیوال سے را کا دہشت گرد بھی پکڑا گیا

    19 گھنٹوں تک ٹوائلٹ میں پھنسے بیمار معمر شوہر کو نہ نکالنے پر بیوی گرفتار

    شکل مومناں۔۔۔ نمازی کے بہروپ میں مساجد کے باہر سے گاڑیاں چوری کرنیوالا گرفتار

    آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

    بلاگ

    پروفیسر ملک احمد شیر کھارا — علم و تدریس کا روشن استعارہ

    ڈرون: آسمان کی وہ آنکھ جس نے جنگ اور زندگی بدل دی

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    خلیج اور فارس کی جنگ—امکانات، اثرات اور پاکستان کی حکمتِ عملی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.