ریاض / صنعا:خطے میں جاری کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ سعودی عرب نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے اتوار کے روز سعودی دارالحکومت ریاض پر ایک بیلسٹک میزائل سے حملہ کرنے کی کوشش کی ہے
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کے بعد ریاض کو براہِ راست نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جس نے خطے میں جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
سعودی زیرِ قیادت اتحاد کے بیان کے مطابق، صبح کے وقت کی جانے والی اس میزائل حملے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ حملے کے دوران ریاض کے بعض رہائشیوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی، جبکہ ائیرپورٹ کے قریب دھوئیں کے بادل بھی دیکھے گئے۔ تاہم، حکام نے واضح کیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا بڑے مادی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
سعودی اتحاد نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حوثیوں نے صرف دارالحکومت ہی نہیں بلکہ بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ ینبع (جہاں سعودی عرب کی بڑی پائپ لائن ختم ہوتی ہے)، طائف، بیش اور فرسان میں بھی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ناکام کوششیں کیں، جنہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔ دوسری جانب، حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاض میں حساس مقامات اور ینبع میں سعودی تیل کمپنی ’آرامکو‘ (Aramco) کی تنصیبات کو کروز، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر آگ لگنے کا دعویٰ کیا گیا ہے—تاہم آزاد ذرائع سے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
حالیہ چند دنوں میں حملوں کا یہ سلسلہ انتہائی تیز ہو چکا ہے۔ گزشتہ روز سعودی سول دفاع نے تصدیق کی تھی کہ حوثی ڈرون کے ٹکڑے گرنے سے ایک یمنی شہری جاں بحق ہو گیا تھا، جو اس کشیدگی میں پہلا شہری جانی نقصان تھا۔ اس سے قبل بدھ کے روز سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ حوثیوں نے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ پر بھی ڈرون حملہ کرنے کی کوشش کی جسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، اور خبردار کیا کہ حرمین شریفین اور ملک کا دفاع ایک "ریڈ لائن” ہے۔
علاقائی عہدیداروں کے مطابق، طویل جنگ کے باعث سعودی عرب کے پاس میزائل انٹرسیپٹرز (Interceptros) کی کمی واقع ہو رہی ہے، اور اس تناظر میں ریاض نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے فضائی دفاعی تعاون کی درخواست کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن کے اندر حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان شدید لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے اور باب المندب آبنائے کے اہم جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عالمی سمندری گزرگاہوں اور تیل کی سپلائی پر ایک بار پھر شدید منڈیاں دباؤ میں آ چکی ہیں، جس سے عالمی معیشت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ریاض پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا، جو ناکام بنا دیا،سعودی عرب کی تصدیق

