واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا کے خلاف جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) کو وائٹ ہاؤس سے مکمل طور پر بین کرنے کے بعد جب ایک پریس کانفرنس کے دوران بلومبرگ کی صحافی کیتھرین لوسی نے پوچھا کہ "کیا اس فہرست میں مزید ادارے بھی آنے والے ہیں؟” تو ٹرمپ نے طنز اور غصے سے بھرپور انداز میں ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے نام لے کر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
"I don't want them in my office. I don't want them here," President Trump echoed his media outlet ban aimed at CNN, MS NOW and Politico that he issued Friday while speaking to reporters in the Oval Office.
The president barred the outlets from reporting at the White House… pic.twitter.com/nkFmUG8Dot
— CBS News (@CBSNews) September 18, 2026
صدر ٹرمپ نے ان دونوں موقر اخبارات کو "جعلی خبریں” (Fake News) اور "گھناؤنا” (Disgusting) قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اخبارات انتہائی بری حالت میں ہیں اور وہ اب وائٹ ہاؤس میں ان کے پرنٹ ایڈیشن بھی نہیں رکھیں گے۔ جب صحافیوں نے انہیں یاد دلایا کہ امریکہ کی پہلی آئینی ترمیم (First Amendment) آزادیِ صحافت کی ضمانت دیتی ہے، تو ٹرمپ نے انتہائی طنزیہ انداز میں جواب دیا: "اوہ، مجھے یاد دلانے کا شکریہ!”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وائٹ ہاؤس سے صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور میڈیا ہاؤسز کو کھلے عام دھمکیاں دینا امریکی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب بنتا جا رہا ہے، جہاں آزاد آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔

