بیجنگ / نئی دہلی:عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی ترقی نے دولت کے روایتی ریکارڈ الٹ دیے ہیں۔ معروف شارٹ ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس‘ (ByteDance) کے کو-فاؤنڈر ژانگ یمنگ (Zhang Yiming) نے بھارتی صنعتی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایشیا کے سب سے امیر ترین شخص کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ بلومبرگ بلینئرز انڈیکس (Bloomberg Billionaires Index) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 43 سالہ ژانگ یمنگ کی مجموعی دولت بڑھ کر 105.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کی دولت کا تخمینہ 104.8 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
دونوں شخصیات کے درمیان دولت کا یہ فرق ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیکنالوجی سیکٹر سے وابستہ کم گو کاروباری شخصیت نے ایشیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہے۔
سن 2019 میں جب بلومبرگ نے پہلی بار ژانگ یمنگ کی دولت کا تخمینہ لگایا تھا تو وہ 13 ارب ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر آٹھ گنا سے زائد ہو چکی ہے۔ صرف رواں ماہ کے دوران بلیک راک (BlackRock)، فیڈیلیٹی انویسٹمنٹس اور ٹی رو پرائس جیسے بڑے سرمایہ کار اداروں کی جانب سے بائٹ ڈانس کے شیئرز کی نئی اور بہتر قیمتیں سامنے آنے کے بعد ژانگ یمنگ کی دولت میں 12 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی صنعتوں، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر مبنی دولت کے مقابلے میں اب مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جڑی دولت تیزی سے آگے نکل رہی ہے۔ بائٹ ڈانس نے نہ صرف ٹک ٹاک اور ڈوآن (Douyin) جیسی مقبول ایپس کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا پر راج کیا بلکہ حالیہ برسوں میں ‘ڈوباؤ’ (Doubao) چیٹ بوٹ اور ‘سی ڈانس’ (Seedance) جیسے جدید ترین جنریٹو اے آئی ٹولز میں بھی زبردست سرمایہ کاری کی ہے۔
امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ریگولیٹری چیلنجز اور سخت قانونی جنگوں کا سامنا کرنے کے باوجود ژانگ یمنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے کی حکمت عملی نے انہیں ایشیا کا سب سے امیر ترین شخص بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس تازہ ترین تبدیلی کے بعد عالمی ارب پتیوں کی فہرست میں ژانگ یمنگ 18 ویں جبکہ گوتم اڈانی 20 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔

