واشنگٹن:دن کے وقت اچانک اندھیرا چھا جانے، سورج کی روشنی مدھم پڑ جانے اور آسمان پر سورج کی بیرونی فضا (کورونا) کے نمایاں ہو جانے کا ایک نایاب ترین فلکیاتی منظر اگلے برس دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق 2 اگست 2027 کو لگنے والا مکمل سورج گرہن 21ویں صدی کا طویل ترین مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کے دوران مکمل تاریکی کا مرحلہ زیادہ سے زیادہ 6 منٹ 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔
ویب سائٹ ’سپیس ڈاٹ کام‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس مکمل سورج گرہن کے دوران چاند سورج کو پوری طرح ڈھانپ لے گا۔ گرہن کا یہ راستہ بحر اوقیانوس سے شروع ہوکر اسپین، شمالی مراکش، شمالی الجزائر، شمالی تیونس، شمال مشرقی لیبیا، مصر، سوڈان، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا بحر ہند میں جا کر ختم ہوگا۔ اس دوران چاند کا گہرا سایہ زمین پر تقریباً 258 کلومیٹر چوڑا ہوگا اور یہ راستہ تقریباً 3 گھنٹے 20 منٹ میں طے ہوگا۔
اس تاریخی فلکیاتی منظر کے لیے مصر دنیا بھر میں سب سے اہم مقام ہوگا، جہاں اقصر کے قریب مکمل گرہن 6 منٹ 19 سیکنڈ تک جاری رہے گا، جبکہ سوہاج اور بحیرہ احمر کے بعض علاقوں میں بھی اس کا دورانیہ 6 منٹ سے زائد ہوگا۔ اس کے علاوہ اسپین کے شہروں (ملاگا، کیڈیز)، مراکش (طنجہ)، الجزائر (وھران)، تیونس (صفاقس)، لیبیا (بن غازی) اور سعودی عرب (جدہ اور مکہ مکرمہ) میں بھی مکمل سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔ مکہ مکرمہ میں اس کا دورانیہ تقریباً 5 منٹ 10 سیکنڈ ہوگا۔ اندازے کے مطابق اس مکمل گرہن کے راستے میں لگ بھگ 8 کروڑ 89 لاکھ افراد آباد ہیں، جو 2024 کے گرہن کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
پاکستان میں سورج گرہن
اگلے برس 2 اگست 2027 کو پاکستان میں بھی سورج گرہن کا نظارہ کیا جاسکے گا، تاہم یہاں مکمل نہیں بلکہ جزوی سورج گرہن ہوگا۔ ’ٹائم اینڈ ڈیٹ‘ کے مطابق پاکستان میں یہ گرہن دوپہر تقریباً 2 بج کر 43 منٹ پر شروع ہو کر شام 4 بج کر 51 منٹ تک جاری رہے گا۔
اسلام آباد: یہاں گرہن 3 بج کر 14 منٹ پر شروع ہوگا، 3 بج کر 47 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا اور 4 بج کر 19 منٹ پر ختم ہوجائے گا۔
کراچی: کراچی میں یہ منظر تقریباً 3 بجے شروع ہو کر شام 4 بج کر 48 منٹ تک دیکھا جاسکے گا۔
علاوہ ازیں یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں میں بھی جزوی گرہن کے شاندار نظارے ہوں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کے دوران سورج کو براہ راست ننگی آنکھ سے دیکھنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے مستند سولر ایکلپس گلاسز (Solar Eclipse Glasses) یا خصوصی فلٹرز کا استعمال لازمی کیا جائے۔

