بروکسل / واشنگٹن:عالمی سفارت کاری میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور غیر متوقع موڑ پر، یورپی یونین نے کینیڈا کے ساتھ ایک بالکل نئے تعلق کی بنیاد رکھتے ہوئے اسے تاریخ میں پہلی بار "ایسوسی ایٹ ممبر” (Associate Member) بنانے کی شاندار پیشکش کر دی ہے۔ یہ ماڈل فی الحال یورپی یونین کے نظام میں وجود ہی نہیں رکھتا، جس نے عالمی سطح پر نئی ہلچل مچا دی ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین (Ursula von der Leyen) نے بدھ کے روز اپنے سالانہ ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے دوران اس حیرت انگیز تجویز کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) یورپی پارلیمنٹ میں بطور خاص مہمان موجود تھے۔ ارسولا وان ڈیر لیین نے خطاب کے دوران کہا کہ "یورپ اور کینیڈا جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، اور میں کینیڈا کے لیے یورپی یونین کی پہلی ایسوسی ایٹ ممبر بننے کے دروازے کھولنے کی خواہاں ہوں۔” اس تاریخی اعلان پر ایوان میں موجود اراکین نے کھڑے ہو کر طویل تالیاں بجائیں، جبکہ ارسولا اور مارک کارنی نے گلے مل کر خوشی کا اظہار کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے تناظر میں یورپی یونین اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کو واشنگٹن میں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کیرولینا میں ایک انتخابی ریلی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس خیال کو "مضحکہ خیز” (laughable) قرار دیا۔
ٹرمپ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا: "اگر وہ ایسا کرتے ہیں، اور مجھے لگا کہ یہ کوئی نقصان دہ ارادہ ہے، تو میں اس پر انتہائی سخت محصولات (Tariffs) عائد کر دوں گا یا پھر یورپ کے ساتھ بہت سی چیزوں میں تجارت مکمل طور پر بند کر دوں گا!”
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مشکل ہوتے ہوئے تعلقات کے پیشِ نظر کینیڈا اور یورپ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ مارک کارنی اس سے قبل عالمی فورمز پر خبردار کر چکے ہیں کہ بڑی طاقتیں معاشی انضمام کو ہتھیار اور ٹیرف کو دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں یورپی یونین چاہتی ہے کہ کینیڈا کے ساتھ اہم خام مال، دفاعی ٹیکنالوجی اور ڈرونز سمیت ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز میں مستحکم سپلائی چینز قائم کی جائیں۔
تاہم، اس غیر معمولی تجویز پر کئی سوالات بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کینیڈا میں اپوزیشن جماعتوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے وضاحت طلب کی ہے کہ اس ایسوسی ایٹ ممبرشپ سے کینیڈا کو کیا ملے گا اور اسے برسلز (یورپی یونین ہیڈکوارٹرز) کو کن اختیارات کا تبادلہ کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین کے اندر بھی کچھ ممالک کو اس فیصلے سے قبل اعتماد میں نہ لینے پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ جمعرات کے روز کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کر کے اس سیاسی اور معاشی رشتے کی سمت واضح کریں گے۔
یورپی یونین نے کینیڈا کو ‘پہلا ایسوسی ایٹ ممبر’ بنانے کی تاریخی پیشکش کر دی، ”ٹرمپ جل گئے“

